اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف نے 1992 سے 2016 تک شریک ملزموں کی ملی بھگت سے چوہدری شوگر ملز میں کتنی بڑی سرمایہ کاری کی؟اور اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)قومی احتساب بیورو(نیب)نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کیخلاف ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے۔جس میں کہا گیاہے کہ ملزم نواز شریف صوبائی وزیر خزانہ وزیر پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان رہے، وہ مختلف عرصے کے دوران چوہدری شوگرملز کے بڑے شیئر ہولڈر بھی رہے۔نیب رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے 1992 سے 2016 تک شریک ملزموں کی ملی بھگت سے چوہدری شوگر ملز میں سرمایہ کاری کی۔

نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ میں مریم صفدر، حسین نواز، یوسف عباس، عبدالعزیز عباس شریک ملزموں میں شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے چوہدری شوگرملز میں 2000 ملین روپے کی گئی سرمایہ کاری کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ 1992 میں نواز شریف نے چوہدری شوگر ملز میں اپنے بیوی بچوں کے نام پر 43 ملین روپے کے شیئرز حاصل کئے۔قومی احتساب بیورو نے عدالت کو بتایا ہے کہ نواز شریف کے 1992 میں وزیراعظم ہوتے ہوئے چوہدری شوگر ملز نے 1 کروڑ 55 لاکھ 20 ہزار ڈالر آف شور کمپنی سے قرض لیا۔ چوہدری شوگر ملز کو قرض دینے والے شیڈرون نامی آف شور کمپنی کے مالک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ملزم میاں نواز شریف اور دیگر نے چوہدری شوگر ملز کے 4.32ملین شیئرز کیلئے رقم کے ذرائع ظاہر نہیں کیا۔یہ الزام بھی لگایا گیاہے کہ نواز شریف نے 2008 میں چوہدری شوگر ملز کے 400 ملین روپے مالیت کے ساڑھے 11 ملین شیئرز حاصل کئے۔نیب نے کہاہے کہ دستاویزات میں 2008 کے دوران نواز شریف اور مریم صفدر کی مجموعی آمدن 47 ملین روپے بتائی گئی ہے،نواز شریف نے مریم صفدر، یوسف عباس اور دیگر شریک ملزموں کی ملی بھگت سے 410 ملین روپے کی مزید منی لانڈرنگ کی۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 410 ملین روپے کی منی لانڈرنگ 11 ملین شیئرز غیر ملکی نصیر عبداللہ لوتھا کو منتقل کر کے کی گئی

،2014 میں نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تو یہی ملزم کو واپس منتقل کر دیئے گئے۔نیب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نواز شریف نے اثاثے ظاہر کئے بغیر 1 ہزار 200 ملین روپے سے شمیم شوگر ملز حاصل کی،دستیاب شواہد کے مطابق نواز شریف نے پبلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کی۔قومی احتساب بیورو کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک سمیت دیگر بینکوں میں موجود 48 بینک اکاونٹس کی چھان بین کی گئی،اکاؤنٹس کی چھان بین کے دوران بھاری منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں جن پر تحقیقات کرنا باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…