جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

126 دن کا دھرنا متعارف کرانے والے آج ہمارے آزادی مارچ سے کیوں خوفزدہ ہیں؟جے یو آئی نے حکومت کے سامنے سوالات رکھ دئیے‎

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

عبدالحکیم (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ 126 دن کا دھرنا متعارف کرانے والے آج ہمارے آزادی مارچ سے کیوں خوف زدہ ہیں خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان اب اپنے موقف پر قائم رہیں وہ ہمارے لوگوں کو احتجاج سے روکنے کی بات کرتے ہیں میرا انکو چیلنج ہے کہ وہ پہلے ہمیں 27، اکتوبر کو اپنے گھر سے تو نکل کر دکھائیں

اگر کے پی کے حکومت نے ہمارے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی تو ہم پہلا دھرنا کے پی کے میں دے دیں گے چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمداللہ نے کہا کہ کہ جے یو آئی تو روز اول سے نیب کی سیاسی انتقامی کارروائیوں اور اس کے وجود کے خلاف ہیں نیب کے ادارے کو حکومت سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کررہی ہے صرف اور صرف احتساب سیاست دانوں کا کیا جارہا ہے سابقہ ادوار میں بھی نیب نے سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنا کر اور انہیں مختلف مقدمات میں الجھا کر پیپلز پارٹی میں پیٹریاٹ اور مسلم لیگ ن کے لوگوں کو ہراساں کر کے ق لیگ کو جنم دیکر ایک آمر کی حکومت کا حصہ بناکر جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا‎ اب بھی صرف اپوزیشن کو اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کے روز مرہ کے مسائل پر حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں اسلیے موجودہ حکومت نے دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے مرکزی رہنماؤں کو مختلف مقدمات میں الجھا کر پابند سلاسل کیا ہوا ہے تاکہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے انہوں نے کہا کہ جب تک ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں کی بجائے دوسروں پر نظر رکھے گا اور اپنے اندر چھپے غیر ذمہ دار اور کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا تب تک کوئی بھی ادارہ فعال نہیں ہو گا ہر ادارے کو چاہیے کہ وہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں

احسن طریقے سے نبھائیں انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کے احتساب کیلئے پارلیمنٹ کا ادارہ موجود ہے جس میں سیاستدانوں کی کرپشن اور کوتاہیوں بارے مؤثر اقدامات اور سخت قوانین کیلئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا حافظ حمداللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے نیب کے ادارے بارے ریمارکس بہت سے سوالات کو جنم دے رہے ہیں آصف سعید کھوسہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ

ادارہ سیاسی گیم ہے اور اس ادارے کو صرف سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس پر صرف الزام ہوتا ہے وہ جیل چلا جاتا ہے اور جو حکومت کا حصہ بن جاتا ہے وہ پارلیمنٹ چلا رہا ہوتا ہے اور اس کے اوپر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا کیونکہ وہ حکمران پارٹی کیساتھ بیٹھا ہے یہ کیسا احتساب ہے اگر نیب جیسا ادارہ ایسی کارروائیاں کرے گا تو پھر سوالات تو اٹھیں گے حافظ حمداللہ نے مزید کہا کہ 27، اکتوبر کو ہر حال میں آزادی مارچ ہوگا اگر حکومت نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی ہمارا احتجاج پرامن ہوگا -‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…