بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

اب مرکزی بینک نہیں بلکہ کون ڈالر کی قیمت طے کرے گا؟گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر باقر رضا نے بڑے اقدامات کا اعلان کردیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقرنے کہاہے کہ حکومتی کوششوں سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے تو عالمی برادری سے بار بار مالی امداد لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ڈالر کی قیمت کے تعین کے لیے آئی ایم ایف نے کوئی ہدف نہیں دیا۔ مارکیٹ کی بنیاد پر قیمت کا تعین ہورہا ہے۔خصوصی انٹرویوکے دوران گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہاکہ معیشت کی سمت درست ہوگئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی کم ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ2015میں جاری کھاتوں کا خسارہ جی ڈی پی کا صرف

ایک فیصد تھا، 2018میں دو ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ گیا تھا۔ ہماری کوششوں سے کم ہوگیاہے۔ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا کہ صرف پاکستان کی برآمدی مالیت ہی نہیں کم ہورہی۔ حریف ممالک کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے، چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شرح مبادلہ میں استحکام اہم چیلنج ہے۔ بینکوں سے مشاورت کرکے بتادیاہے کہ اب مرکزی بینک ڈالر کی قیمت طے نہیں کرے گا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ ہوں گے تو معاشی بحران کے باوجود عالمی برادری سے مالی امداد لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…