اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا آئی ایس آئی کے دفتر پر خودکش حملے کے 5 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور/اسلام آباد(اے پی پی+آن لائن) عدالت عظمیٰ نے ملتان میں حساس ادارے کے دفتر پر خودکش حملے میں ملوث 5 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے گواہان کے بیانات میں تضاد ہونے پر ملزمان کو بری کیا،جسٹس ملک منظور احمد کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ لاہور رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے ملزمان کے وکیل ظفر اقبال چودھری نے دلائل دیے۔

ملزمان اعجاز، افضل، سلمان، سجاد اور افضل رحیم پر خودکش حملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 2015ء میں ملزمان افضل، سلمان، سجاد اور افضل رحیم کی ٹرائل کورٹ کی طرف سے دی گئی سزائے موت کی توثیق کی تھی جبکہ ایک ملزم اعجاز کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ،ملزمان پر خودکش حملہ کے دوران راکٹ لانچر اور کلاشنکوف کی فائرنگ سے آئی ایس آئی دفتر پر حملے میں فوجی جوانوں سمیت 14افراد کو شہید اور 67 افراد زخمی کرنے کے الزام میں سزا دی گئی تھی، ملزمان پر ملتان میں آئی ایس آئی کے دفترپر 2010ء میں خودکش حملہ کا الزام تھا۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے 2 حاضر سروس میجر کے قتل کے مجرم کی سزا کیخلاف دائر نظر ثانی درخواست مسترد کردی ہے ۔ درخواست کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ۔دوران سماعت وکیل ملزم لطیف کھوسہ نے دلائل دیے کہ 3 جولائی 2007ء کو گلستان کالونی سول لائن راولپنڈی میں لین دین کے تنازع پر قتل کا مقدمہ درج ہوا `ملزم مقتول کے گھر میں کرایے دار تھا ،ملزم کی ان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی وہ ان کو کیوں قتل کرتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لیے ہم نے آپ کوتفصیل سے سنا۔

ملزم قتل کرنے کے بعد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے باہر نکلا ،مجرم کیپٹن ریٹائرڈ اسماعیل پروفیسر منہاس کو میجر فیصل اور میجر کاشف ریاض کے قتل پر کریمنل کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی ،ہائی کورٹ نے بھی سالہ بہنوئی کے قتل کے مجرم کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی ۔عدالت عظمیٰ نے بھی ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی طرف سے سزا کیخلاف دائر نظر ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے نمٹا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…