اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سونے کی بالیاں بیچ کر بچے کی گمشدگی کے اشتہار لگوائے، بچے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ایس ایچ او اور ڈی پی او کو دکھائی، چونیاں میں ایک بچے کی غمزدہ والدہ نے افسوسناک تفصیلات بتا دیں

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چونیاں میں غمزدہ والدین میں سے ایک والدہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ میرا بیٹے اپنے والد کے ساتھ ہی کام کرتا تھا لیکن اس دن چار بجے میرا شوہر تو آ گیا لیکن میرا بیٹا ساتھ نہ آیا، میرا بیٹا ایک پل بھی میرے بغیر نہیں رہتا تھا، جب میں نے شوہر سے پوچھا کہ علی حسنین کدھر ہے تو اس کے والد نے بتایا کہ تمہیں پتہ تو تمہارا بیٹا خود ہی آ جاتا ہے لیکن میں نے اس کے والد افضل سے کہا کہ نہیں تم جاؤ اسے لے آؤ،

جب وہ گھر نہ آیا تو ہم نے اس کی تلاش شروع کر دی، بچے کی والدہ نے کہا کہ اس کی سی سی ٹی وی ویڈیو ہر کسی کو دکھائی، ایس ایچ او، ڈی پی او اور سب پولیس والوں کو دکھائی کہ میرے بیٹے کا کچھ کر دو۔ اس کی والدہ نے کہا کہ آگے سے ان لوگوں نے کہا کہ ہم تفتیش اور تلاش کر رہے ہیں، اس موقع پر غمزدہ ماں نے کہا کہ میں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں اور میری سونے کی بالیاں تھیں وہ بچے کی گمشدگی کا اشتہار بنوانے کے لیے بیچ دیں، ہر جگہ پر خود اشتہار لگا کر آئی ہوں، اس کی والدہ نے بتایا کہ اپنے بچے کو زندہ پانے کے لیے میں نے ہر طرح کی کوشش کی لیکن پولیس والوں نے میرے بچے کے کپڑے مجھے پہچاننے کے لیے دئیے جو میں نے پہچان لئے لیکن اس کے بعد کوئی چیز مجھے نہیں دی گئی، غمزدہ والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جلد از جلد بچے کی کوئی چیز دی جائے تاکہ میں اپنے بچے کی قبر پر جا کر دعا تو مانگ سکوں۔ بچے کے اغوا ہو جانے کے بعد تھانے گئے اور درخواست دی جس پر پولیس والوں نے کہا کہ آپ گھر جاؤ ہم کچھ کرتے ہیں لیکن انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا، دوسرے دن گئی ان لوگوں کی منت سماجت کی اور کہا کہ بھائیوں میرے بچے کا کچھ کر دو۔ بچے کی والدہ نے کہا کہ میں پورے ضلع میں گئی لیکن میری کسی نے کوئی بات نہیں سنی۔ اس موقع پر غمزدہ والدہ نے کہا کہ اگر پولیس پہلے اغوا ہونے والے بچے کے بارے میں تفتیش کر لیتی تو دوسرا بچہ اغوا نہ ہوتا اور پھر تیسرا بھی نہ ہوتا لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ علی حسنین کی غمزدہ والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے بچے کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کرکے میری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور مجھے انصاف دلایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…