جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

بڑے دعوے ہوا میں اُڑ گئے،گزشتہ تین سالوں کے دوران ریلوے کی آمدنی کتنے ارب اور خسارہ کتنا رہا؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 22  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان ریلوے کی گزشتہ تین سالوں کے دوران آمدنی 144 ارب 17 کرو ڑ روپے جبکہ خسارہ 110 ارب 9 کروڑ روپے ہے۔ گزشتہ سایک سال کے دوران پاکستان ریلوے کے نظام میں 74 حادثات ہوئے ہیں جن سے 12 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

آن لائن کے پاس سرکاری دستاویزات کے مطابق 2016-17 میں پاکستان ریلوے کی آمدنی 40 ارب 8 کروڑ روپے تھی جبکہ خسارہ 40 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کا تھا۔ 2017-18 میں ریلوے کی آمدنی 9 ارب روپے بڑھی جسکے بعد 49 ارب 57 کروڑ روپے سے زائد کی ہو گئی جبکہ خسارہ 4 ارب روپے کم ہوا اور 36 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کا رہا۔ 2018-19 میں پاکستان ریلوے کی آمدنی پھر کم ہو گئی جو 54 ارب 51 کروڑ روپے ہو گئی جبکہ خسارہ 4 ارب روپے کم ہوا اور 32 ارب 76 کروڑ روپے 91 لاکھ روپے تک آ گیا۔ گزشتہ سال کے دوران پاکستان ریلوے میں 74 سے زائد حادثات ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ریلوے میں 74 سے زائد حادثات ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ریلوے کی پٹڑی کو 8 کروڑ 99 لاکھ 25 ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلوے کے انجنوں اور ڈبون کو ان حادثات کی وجہ سے ایک کروڑ 65 لاکھ 75 ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلوے کے انجنوں کے میکنیکل کا ایک کروڑ 75 لاکھ 88 ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔ الیکٹریکل کا 30 لاکھ 26 ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ ان 74 حادثات کی وجہ سے سگنل کا 10 ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان ریلوے کے کل 533 ریلوے سٹیشنز ہیں جن میں سے صرف 12 ریلوے سٹیشنز پر فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے ہیں جبکہ 157 ریلوے سٹیشن بہت اہم ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…