منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی موت پر بینظیر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی بھی سامنے آ گئی،جانتے ہیں لاش کو ہاسٹل سے ہسپتال کیسے منتقل کیا گیا؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی موت پر بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی بھی سامنے آ گئی، طالبہ کی لاش کو ہاسٹل سے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے شٹل وین استعمال کی گئی ،انتظامیہ نے ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔ اس سلسلے میں ہاسٹل کے 3ملازمین کو برطرف اور چار کو معطل کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکی پراسرار موت کے واقعہ پر بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی سامنے آئی ے ۔نمرتا کی ہاسٹل نمبر 3 کے کمرے سے برآمد ہونے والی لاش کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے شٹل وین استعمال کی گئی،انتہائی خراب حالت میں استعمال ہونے والی چانڈکا کالج کی شٹل وین کے دو فٹ والی سیٹ پر نمرتا کو سلایا گیا، ہاسٹل سے چانڈکا ہسپتال کے شعبہ حادثات تک پہنچانے کا راستہ دس منٹ کا ہے۔شٹل وین طالبات کو کالج سے ہاسٹل اور ہاسٹل سے کالج تک استعمال ہوتی ہے، واقعے والے دن کلرک نے اطلاع دیکر بلایا اور ہاسٹل کی لڑکیوں نے نمرتا کو وین میں رکھا، چوکیدار اور کلرک بھی موجود تھے لیکن کوئی انتظامی افسر نہیں تھا، شہید بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے پاس اپنی ایمبولینس تک نہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات سے پہلے سارہ ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔دوسری جانب ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیاہے کہ نمرتا اپنے کلاس فیلو مہران ابڑو سے شادی میں دلچسپی رکھتی تھی اور نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے زیر استعمال تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق نمرتا کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد اس کے کلاس فیلو مہران ابڑو اور وسیم میمن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمرتا مہران ابڑو سے شادی میں دلچسپی رکھتی تھی ۔اس بارے میں دیگر کلاس فیلوز کا کہنا ہے کہ نمرتا کا مہران ابڑو سے کوئی افیئر نہیں تھا ۔ وسیم میمن، مہران ابڑو اور نمرتا صرف اچھے دوست تھے۔تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمان نے ہاسٹل کے چار ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔معطل ہونے والے افراد میں سینئر کلرک حسین شاہ، جونئیر کلرک روزینہ ،چوکیدار خان محمد اور چوکیدار اکبر شامل ہیں۔

گرلز ہاسٹل کی وارڈن اسما، حسینہ اور نادیہ کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے ۔پولیس نے ہاسٹل نمبر تین کی جیوفینسنگ کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کر لی ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بھی نمرتا کی ہلاکت کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں کمیٹی ارکان نے وائس چانسلر پروفیسر انیلا عطا رحمان سے ملاقات کی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ بھی لیا۔نمرتا بے نظیربھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک آصفہ ڈینٹیل کالج لاڑکانہ کی طالبہ تھی۔ اس کی لاش ہاسٹل نمبر تین کے کمرے سے ملی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…