پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی موت پر بینظیر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی بھی سامنے آ گئی،جانتے ہیں لاش کو ہاسٹل سے ہسپتال کیسے منتقل کیا گیا؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی موت پر بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی بھی سامنے آ گئی، طالبہ کی لاش کو ہاسٹل سے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے شٹل وین استعمال کی گئی ،انتظامیہ نے ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔ اس سلسلے میں ہاسٹل کے 3ملازمین کو برطرف اور چار کو معطل کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکی پراسرار موت کے واقعہ پر بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی سامنے آئی ے ۔نمرتا کی ہاسٹل نمبر 3 کے کمرے سے برآمد ہونے والی لاش کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے شٹل وین استعمال کی گئی،انتہائی خراب حالت میں استعمال ہونے والی چانڈکا کالج کی شٹل وین کے دو فٹ والی سیٹ پر نمرتا کو سلایا گیا، ہاسٹل سے چانڈکا ہسپتال کے شعبہ حادثات تک پہنچانے کا راستہ دس منٹ کا ہے۔شٹل وین طالبات کو کالج سے ہاسٹل اور ہاسٹل سے کالج تک استعمال ہوتی ہے، واقعے والے دن کلرک نے اطلاع دیکر بلایا اور ہاسٹل کی لڑکیوں نے نمرتا کو وین میں رکھا، چوکیدار اور کلرک بھی موجود تھے لیکن کوئی انتظامی افسر نہیں تھا، شہید بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے پاس اپنی ایمبولینس تک نہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات سے پہلے سارہ ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈال دیا۔دوسری جانب ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیاہے کہ نمرتا اپنے کلاس فیلو مہران ابڑو سے شادی میں دلچسپی رکھتی تھی اور نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے زیر استعمال تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق نمرتا کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد اس کے کلاس فیلو مہران ابڑو اور وسیم میمن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمرتا مہران ابڑو سے شادی میں دلچسپی رکھتی تھی ۔اس بارے میں دیگر کلاس فیلوز کا کہنا ہے کہ نمرتا کا مہران ابڑو سے کوئی افیئر نہیں تھا ۔ وسیم میمن، مہران ابڑو اور نمرتا صرف اچھے دوست تھے۔تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمان نے ہاسٹل کے چار ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔معطل ہونے والے افراد میں سینئر کلرک حسین شاہ، جونئیر کلرک روزینہ ،چوکیدار خان محمد اور چوکیدار اکبر شامل ہیں۔

گرلز ہاسٹل کی وارڈن اسما، حسینہ اور نادیہ کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے ۔پولیس نے ہاسٹل نمبر تین کی جیوفینسنگ کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کر لی ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بھی نمرتا کی ہلاکت کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں کمیٹی ارکان نے وائس چانسلر پروفیسر انیلا عطا رحمان سے ملاقات کی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ بھی لیا۔نمرتا بے نظیربھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک آصفہ ڈینٹیل کالج لاڑکانہ کی طالبہ تھی۔ اس کی لاش ہاسٹل نمبر تین کے کمرے سے ملی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…