پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں مہنگائی ماپنے کا نیاپیمانہ بھی کام نہ آیا، انتہائی تشویشناک اضافہ،نیا ریکارڈ قائم

datetime 19  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)حکومت کا مہنگائی ماپنے کا نیاپیمانہ بھی کام نہ آیا، مہنگائی کی رفتار کم نہ ہوسکی، ستمبر میں ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی اوسطا شرح 17اعشاریہ 3 فیصد رہی، گزشتہ سال ستمبر میں یہ شرح 2اعشاریہ 6 فیصد تھی۔ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر کے دوسرے ہفتے کے دوران مارکیٹ میں پیاز، ٹماٹر، آٹے، چاول، چائے، گھی، کوکنگ آئل، چکن، انڈوں، تازہ دودھ، دہی اور دالوں سمیت 25 بنیادی اشیا خورونوش کی قیمت میں 14 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا،

مسلسل مہنگائی کے باعث مارکیٹ میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی 51 بنیادی اشیا میں سے 46 اشیا گزشتہ سال کے مقابلے میں 111 فیصد تک مہنگی ہوچکی ہیں۔مہنگائی کی دوڑ میں لہسن کا پہلا نمبر ہے، سرکاری رپورٹ کے مطابق ایک سال میں لہسن کی اوسط قیمت 133 روپے کے اضافے سے 253 روپے فی کلو ہوگئی،  پیاز کی فی کلو قیمت 36 روپے کے اضافے سے 73 روپے، زندہ برائلر کی قیمت 83 روپے کے اضافے سے 195 روپے، دال مونگ کی قیمت 58 روپے کے اضافے سے 170 روپے ہوچکی ہے۔چینی کی فی کلو اوسط قیمت 22 روپے کے اضافے سے 76 روپے ہوگئی، کھلا گھی 39 روپے مہنگا ہو کر 208 روپے فی کلوہوگیا، دال ماش 41 روپے مہنگی ہوئی اور اس کی فی کلو قیمت 181 روپے ہوگئی، گڑ 29 روپے مہنگا ہو 113 روپے فی کلو ہو گیا۔دودھ اورچینی کی قیمت بڑھنے کے بعد پتی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے،چائے پتی کی قیمت میں فی کلو 120 سے 150 تک کا اضافہ ہوا ہے،جس سے برینڈڈ پتی کی موجودہ قیمت 950 سے لے کر 1100تک اور لوکل پتی کی قیمت 700 سے 850 تک جا پہنچی ہے۔چائے کو عام آدمی کی بڑی عیاشی تصور کیا جاتا ہے، لیکن عام آدمی رفتہ رفتہ اس عیاشی سے بھی محروم ہونے لگا ہے،20 سے 25 روپے میں ملنے والا چائے کا ایک کپ30 سے35 روپے تک جا پہنچا ہے۔چائے کا استعمال ذہن اورجسم کو چاق وچوبند رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب جسم کی تھکن کا علاج ایک پیالی چائے سے ہوتا ہے،چائے وہ مشروب ہے جو ہر اچھے برے وقت میں بلاتفریق استعمال کیا جاتا ہے۔کسی کے پاس جائیں یا کوئی شناسا سرراہ مل جائے تو پہلی پیشکش چائے کے کپ کی ہی ہوتی ہے،لیکن اب شاید وہ وقت قریب ہے کہ جب غریب آدمی اس بڑی عیاشی سے بھی جلد محروم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…