جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سعودی تنصیبات پر حملے کو توانائی کی دنیا کا نائن الیون قرار دیدیا گیا،پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع دنیا کی سب سے اہم تیل کی تنصیبات پر حملہ توانائی کی دنیا کا نائن الیون ہے۔بحران طوالت اختیار کر گیا تو اس سے پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔سعودی تیل تنصیبات پر حملے سے تیل کی عالمی سپلائی کا5فیصد متاثر ہوا مگر قیمتوں میں

فوری طورپر 19.5 فیصد اضافہ ہوا اور اگر کشیدگی جاری رہی تو ایک نیا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب میں تیل کی پیداوار میں یومیہ 5.7 ملین بیرل کمی آئی ہے جبکہ سعودی حکومت نے پیداوار کی بحالی کی متوقع تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا ہے جس سے سراسیمگی پھیل رہی ہے۔ اگر حالات جلد نارمل نہ ہوئے تو تیل درآمد کرنے والے ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر، ادائیگیوں کے توازن، منڈیوں، بجٹ،کرنسی اور قیمتوں پر اثر پڑے گا۔تیل کی قیمت میں 5 ڈالر فی بیرل کے اضافہ سے پاکستان کادرآمدی بل سوا ارب ڈالر بڑھ جائے گا کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کل درآمدات کا 26 فیصد ہیں۔انھوں نے کہا کہ تیل کے بحران سے گزشتہ چند ماہ کی سخت مانیٹری پالیسی اور دیگر اقدامات کی وجہ سے امپورٹ بل اور خسارے میں کمی کے لئے کی گئی ساری محنت اکارت جا سکتی ہے۔حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری حسابات کے خسارے میں 73 فیصد کمی آئی ہے، زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو رہے ہیں، فائلرز کی تعداد25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ محاصل میں ڈھائی ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔توانائی کی چوری میں کمی آ رہی ہے،برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ٹیکس کی وصولی توقعات اور اہداف کے مطابق نہیں مگر کزشتہ سال سے زیادہ ہے۔دفاعی اخراجات کو منجمد کر دیا گیا ہے مگر غیر ترقیاتی اخراجات کو منجمد نہیں کیا گیا ہے جو پریشان کن ہے۔

انھوں نے کہا کہ ناکام سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے اور کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ گردشی قرضہ سترہ سو ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ اس میں ماہانہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے تاہم تیل کی قیمت میں غیر معمولی تغیر سے گردشی قرضہ میں اضافہ کی رفتار بڑھ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے مگر اس بار انکی کوئی غیر معقول اور عوام دشمن شرط نہ مانی جائے کیونکہ عوام یا کاروباری برادری مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ تا حال ایکسپورٹ میں اضا فہ کیلئے کوئی خاص اقدام نہیں اُٹھایا جا سکا۔جب تک ایکسپورٹ میں 10ارب ڈالرسالانہ اضا فہ نہیں ہوگا پاکستان کی معیشت آکسیجن ٹینٹ سے باہر نہیں آسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…