پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ ضلع جہاں کے تمام سرکاری سکولوں کی طالبات کو عبایا پہننے کا حکم ،یہ اقدامات کیوں اٹھایا گیا؟پڑھئے تفصیلات

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

ہری پور(آن لائن)ہری پور میں محکمہ تعلیم کے افسران نے تمام ضلعی سرکاری اسکولوں میں طالبات کے لیے عبایا، گاؤن یا چادر پہننا لازمی قرار دے دیا تا ہم ان احکامات پر مقامی افراد کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (ڈی ای او) ثمینہ الطاف نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں

کے تمام پرنسپلز اور ہیڈ مسٹریس کو ہدایت کی کہ طالبات کے عبایا، گاؤن یا چادر پہننے کو یقینی بنایا جائے۔سرکلر میں کہا گیا کہ ’کسی غیر اخلاقی حادثے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام طالبات کو گاؤن، عبایا یا چادر کے ذریعے اپنے آپ کو ڈھانپنے کی ہدایت کی جائے‘۔ اس ضمن میں احکامات جاری کرنے والی متعلقہ افسر سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی جو ناکام رہی تاہم ان کے ایک ماتحت نے اس بات کی تصدیق کی کہ سرکلر حقیقی ہے۔ماتحت خاتون کا کہنا تھا کہ ’چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کی بڑھتی ہوئی شکایات سے طالبات کو محفوط رکھنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’طالبات کی بڑی تعداد میں دوپٹہ اور ’آدھی چادر‘ اوڑھنے کی عادت ہے جو ان کے جسموں کو ڈھانپنے کے لیے کافی نہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی جانب سے طالبات کو ہر چوک یا نکڑ پر تحفظ فراہم کرنا ممکن نہیں اس لیے انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ ان کے ’تحفظ کے لیے مکمل پردہ ضروری قرار دیا جائے۔مذکورہ حکم نامے پر ایک سماجی کارکن اور رواداری تحریک کے رہنما عمر فاروق نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبات کا تحفظ یقینی بنانے کے بجائے حکام ان پر ان کی مرضی کیخلاف پہناوے کی پابندی لگا رہے ہیں۔

سماجی کارکان نے سماجی رویوں میں مرحلہ وار تبدیلی کی ضرورت اور طلبہ اور طالبات کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کا سکھانے کی ضرورت پر زور دیا۔تاہم دہم جماعت کی طالبہ کے والد محمد سہیل نے اس اقدام کی حمایت کی، ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی آئے گی، حکومت کو یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔دوسری جانب دو طالبات کے والدین نوید خان نے اس اقدام کو قابلِ تعریف قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…