منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

200ارب سے زائد کے قرضے معاف کرنے کے خلاف بڑا اعلان کردیاگیا،جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے وہ کون لوگ ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے لوگوں کے دو سو ارب سے زائد کے قرضے معاف کرنے کے خلاف جلد تحریک پارلیمنٹ میں لائیں گے یہ دنیا کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے اور اس میں جن لوگوں کے قرضے معاف کیے گئے ہیں ان میں سے کئی پی ٹی آئی حکومت کا حصہ ہیں اور ہماری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں ہم نہیں چاہتے کہ کرپشن کرنے والے کو سزا نہ ملے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ

کرپشن کرنے والوں کا مقدمہ کھلے عام چلایا جائے اور اسے کھلے عام سزا دی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت ہم سب کو لے ڈوبے گی اس کے پاس کشمیر، پاکستان یا غریب کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے اس کے پاس پالیسی ہے تو صرف امیروں کو خوشحال بنانے کے لیے ہے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بارے میں اکیس سال قبل حکیم محمد سعید اور مجید نظامی نے جو کہا تھا اب اس پر ہمیں سوچنا ہوگا اور ان کی باتوں پر جب غور کریں تو لگتا ہے مولانا فضل الرحمن عمران خان کے لیے غلط نہیں کہتے اور اب تو بچہ بچہ جان گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی باتیں ٹھیک ہیں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو بیورو کریسی چلا رہی ہے پارلیمنٹ نہیں چلا رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اس ملک وحکومت کو چلائے اسے ٹوپی سے کبوتر بنانے والی پارلیمنٹ نہیں بنایا جائے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ کہنا سب سے بڑا بلینڈر ہے کہ آزاد کشمیر میں بھارت نے مہم جوئی کی تو پاک فوج اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی جس شخص کو ایل او سی اور مقبوضہ و آزاد میں فرق معلوم نہیں وہ بھارت سے کہہ رہا ہے کہ مقبؤضہ میں جو کرنا ہے کرو یہاں مت آنا حالانکہ اسے یہ پتہ نہیں ہے کہ ہمارا کلیم ہی مقبوضہ کشمیر پر ہے اور ہماری ساری ہمدردیاں کشمیر سے ہیں

انکا کہنا تھا کہ کشمیر اس وقت کا سب سے بڑا برننگ ایشو ہے اور ہمارے سیاست دان صرف ٹیلیفون پر لگے ہیں اور ہمارے کلمہ گو بھائی مودی کو ایوارڈ پہنا رہے ہیں یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے یا ناکامی عوام اس کا فیصلہ کریں کشمیر کے حوالے سے تو ہمیں بھٹو اور بینظیر کے طرز پر کام کرنا چاہیے بھٹو نے ایک ہی دن میں کشمیر کے معاملے پر سولہ ملکوں کا دورہ کیا اور بینظیر نے او آئی سی کو متحرک کرکے دکھایا یہ حکومت تو کشمیر پر

صرف فارملٹیز پورا کررہی ہے نعروں اور احتجاجوں کے ذریعے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں اس پر ایک آواز بن کردکھانا ہوگا کشمیر میں کشمیری قید ہیں تو اس حکومت نے سیاست دانوں کو قید کررکھا ہے ہماری اپوزیشن کے ساتھ جنگ چلتی رہے گی مگر یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہم اس پر ایک ہوسکتے تھے اور ہمیں ایک نظر آنا چاہیے تھا یہ لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں مگر یہ منافقت ہے ان کا کہنا تھا کہ چلو ہم نے تو غلطیاں کیں مگر آپ تو عوام سے اتنے بڑے وعدے کرکے آئے ہیں ان کو تو پورا کریں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم سو فیصد اضافہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مہنگائی میں کچھ تو سانس لے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…