منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

شہباز شریف کے داماد علی عمران کے خلاف گواہی دینے پر شریف فیملی نے نوید اکرام اور اسکی اہلیہ کو گھر سے اٹھوا کر ان کے ساتھ کیا، کیا؟ معروف صحافی رؤف کلاسرا کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 22  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران بھاگ گئے تھے، نیب نے ایک دفعہ علی عمران کو بلایا بھی تھا دوسری دفعہ ان لوگوں نے علی عمران کو بھگا دیا، نوید اکرام کو چپ کرانے کے لیے اینٹی کرپشن سے تحقیقات کروائی گئی تھیں کیونکہ اس کے ساتھ بڑا ظلم ہواہے،

دو سال چپ کرانے کے لیے انہوں نے نوید اکرام کو ادھر رکھا کیونکہ اینٹی کرپشن ان کا اپنا تھا، معروف صحافی نے کہا کہ اینٹی کرپشن سے کیس نیب نے لے لیا تھا جس سے چیزیں سامنے آئی ہیں، انہوں نے اینٹی کرپشن میں کیس دیا ہی اس لیے تھا کہ سارے معاملے کو سیٹل کرکے کلین چٹ لے لیں لیکن نیب نے یہ کیس لے لیا جس سے علی عمران اور نوید اکرام کی چیزیں سامنے آئی ہیں، اس موقع پر کہا گیا کہ اگر شہباز شریف نے اکرام نوید کو گرفتار کرایا تھاتو اپنے داماد علی عمران کو کیوں گرفتار نہیں کرایا، علی عمران نے مبینہ طور پر اکرام نوید سے 13 کروڑ روپے کی وصولیاں کی، شہباز شریف ان الزامات پر خاموش رہے، اکرام نوید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جو چیزیں علی عمران کو دی گئی ہیں وہ اینٹی کرپشن کے علم میں ہیں، جوں ہی ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علی عمران کی ساری ٹرانزیکشنز اور چیزیں اینٹی کرپشن کو پتہ ہیں اسی شام ان کا ایک سی آئی اے کا ایس پی ہے جو انہوں نے اپنے کاموں کے لیے رکھاہوا تھا، اکرام نوید کو اس کے حوالے کیا اور اس نے ٹارچر کیا اور اس کی بیوی کو وہ اٹھا کر لے آئے، دو بچوں کی ماں کو اس ایس پی نے مارا، انہوں نے اکرام نوید کا مار مار کر بھرکس نکال دیا اور دھمکی دی کہ آئندہ کسی جگہ تم نے علی عمران کا نام لیاتو تمہاری بیوی بچے نہیں بچیں گے، رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس کے بعد علی عمران کا نام اینٹی کرپشن سے غائب ہو گیا تھا، انہوں نے کہاکہ جو آج کل شریف خاندان کے ساتھ وہ ہو رہا ہے جو ان لوگوں نے بدنام زمانہ ایس پی سے کام کروائے، یہ مکافات عمل ہے، معروف صحافی نے کہا کہ اکرام نوید کے نام 78 کنال کی زمین کرائی ہوئی تھی اور پاور آف اٹارنی علی عمران کے پاس تھی۔ علی عمران گوالمنڈی کے چھوٹے سے دکاندار تھے، ان کا بیک گراؤنڈ اتنا مضبوط نہیں تھا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…