اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

رونے سے کچھ ہونے والا نہیں، گھر لینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، سپریم کورٹ نے کوارٹرزخریدنے والوں کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا

datetime 22  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی) سپریم کورٹ نے کے ایم سی کوارٹرز خریدنے والے مکینوں کی اپیل مسترد کردی،دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیئے کہ رونے سے کچھ نہیں ہونے وال، گھر  لینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔پیرکو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کے علاقے کورنگی میں کے ایم سی کوارٹرز پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ نے کے ایم سی کوارٹرز خریدنے والے مکینوں کی اپیل مسترد کردی، مکینوں نے کہاکہ ہمیں ڈائریکٹر کچی آبادی نے گھر فروخت کیے، ہمارا کیا قصور تھا، 45 سال سے رہ رہے ہیں اب کے ایم سی خالی

کرانے پہنچ گئی ہے۔جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کراچی میں بہت کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں، کیا پورا پاکستان اسی طرح الاٹ کردیں؟ پورے کراچی میں یہی ہو رہا ہے۔جسٹس سجادعلی شاہ نے کہاکہ دستاویزات ثابت کررہی ہیں یہ کے ایم سی کے کوارٹرزہیں، جسٹس گلزار نے کہاکہ100سال بھی غیرقانونی بیٹھے رہیں توغیرقانونی تصور ہوگا، وکیل کے ایم سی نے بتایا کوارٹرز خالی کرا کر سیل کر دیئے ہیں۔کراچی رجسٹری میں مکین دوہائیاں دیتے رہے تاہم عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا رونے سے کچھ نہیں ہونے والا، گھر لینے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…