بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

ہم چاکلیٹ،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک ہے، چیئرمین ایف بی آر نے انتباہ کردیا

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبرزیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سیمی مینوفیکچرنگ سے ٹریڈنگ ملک بن چکا ہے،ہم چاکلیٹ،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک بات ہے اسطرح تو کوئی ملک بھی نہیں چل سکتا۔پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام معیشت سے متعلق سیمنیار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات 51 ارب ڈالرز رہیں

جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 21 ارب ڈالرز تک تھیں۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق کو کم کرکے برآمد ات بڑھانا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنیوالی ترسیلات زر سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا گیا اس لیے اس سے حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بھی غلط استعمال کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے ساتھ ہے،ملک میں کاروباتی طبقہ ہم سے زیادہ باخبر ہے، گزشتہ کئی ہفتوں سے روزانہ کئی وفود میرے دفتر آ کر مختلف ٹیکس ختم کرنے کے مطالبہ کرتے ہیں،ہمیں ملک میں معیاری ٹیکس نظام قائم کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وسائل اور دولت کی توازن تقسیم صرف یکساں طور پر ٹیکس جمع کرنے سے ہی ممکن ہے، لاہور کی 9 بڑی مارکیٹوں کی فہرست مرتب کی ہے جو کہ سالانہ ایک لاکھ سے بھی کم ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ ہم نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کی معلومات یا ڈیٹا پر کوئی کام نہیں کیا۔شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں 1 لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈہیں تاہم ٹیکس ادا کرنی والی کمپنیاں کم ہیں،وسیع پیمانے پر ٹیکسیشن کے نظام کو متعارف کرانا ماضی میں ہمارا مضمون ہی نہیں رہا مگر اب یہ ناگزیر ہوچکاہے ہمیں ٹیکس نیٹ میں ہر حال اضافہ کرنا ہوگا۔عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کنٹری ڈائریکٹر ٹیریسا ڈیبان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا آخری پروگرام کامیابی سے مکمل کیا۔ 2016 کے بعد پاکستان کی معیشت خراب ہونا شروع ہوئی اورپاکستان کے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کیسرکاری اداروں کے نقصانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اورٹیکس وصولیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قرضے بلحاظ جی ڈی پی 80 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ سود کی ادائیگیوں پر 25 فیصد بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے جو کسی طور بھی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے اچھا نہیں ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اورحکومت کے پاس درآمدات کے پیسے ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، کچھ اقدامات کے باوجود معاشی مسائل مکمل حل نہیں ہوسکے۔ اسٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود بڑھائی ہے دیکھنا ہوگا اس کا معشیت پر کیا اثر پڑتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…