اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

ہم چاکلیٹ،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک ہے، چیئرمین ایف بی آر نے انتباہ کردیا

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبرزیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سیمی مینوفیکچرنگ سے ٹریڈنگ ملک بن چکا ہے،ہم چاکلیٹ،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک بات ہے اسطرح تو کوئی ملک بھی نہیں چل سکتا۔پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام معیشت سے متعلق سیمنیار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات 51 ارب ڈالرز رہیں

جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 21 ارب ڈالرز تک تھیں۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق کو کم کرکے برآمد ات بڑھانا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنیوالی ترسیلات زر سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا گیا اس لیے اس سے حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بھی غلط استعمال کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے ساتھ ہے،ملک میں کاروباتی طبقہ ہم سے زیادہ باخبر ہے، گزشتہ کئی ہفتوں سے روزانہ کئی وفود میرے دفتر آ کر مختلف ٹیکس ختم کرنے کے مطالبہ کرتے ہیں،ہمیں ملک میں معیاری ٹیکس نظام قائم کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وسائل اور دولت کی توازن تقسیم صرف یکساں طور پر ٹیکس جمع کرنے سے ہی ممکن ہے، لاہور کی 9 بڑی مارکیٹوں کی فہرست مرتب کی ہے جو کہ سالانہ ایک لاکھ سے بھی کم ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ ہم نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کی معلومات یا ڈیٹا پر کوئی کام نہیں کیا۔شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں 1 لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈہیں تاہم ٹیکس ادا کرنی والی کمپنیاں کم ہیں،وسیع پیمانے پر ٹیکسیشن کے نظام کو متعارف کرانا ماضی میں ہمارا مضمون ہی نہیں رہا مگر اب یہ ناگزیر ہوچکاہے ہمیں ٹیکس نیٹ میں ہر حال اضافہ کرنا ہوگا۔عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کنٹری ڈائریکٹر ٹیریسا ڈیبان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا آخری پروگرام کامیابی سے مکمل کیا۔ 2016 کے بعد پاکستان کی معیشت خراب ہونا شروع ہوئی اورپاکستان کے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کیسرکاری اداروں کے نقصانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اورٹیکس وصولیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قرضے بلحاظ جی ڈی پی 80 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ سود کی ادائیگیوں پر 25 فیصد بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے جو کسی طور بھی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے اچھا نہیں ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اورحکومت کے پاس درآمدات کے پیسے ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، کچھ اقدامات کے باوجود معاشی مسائل مکمل حل نہیں ہوسکے۔ اسٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود بڑھائی ہے دیکھنا ہوگا اس کا معشیت پر کیا اثر پڑتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…