اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا مالی خسارہ بڑ ھ رہاہے،گردشی قرضے بھی بڑھ رہے ہیں،پاکستان میں اصل مسئلہ کیا ہے؟آئی ایم ایف نے وجہ بتادی

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ماریہ ٹریسا نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان میں منافع کمانے نہیں آتا،پاکستان میں بیلنس آف پے منٹ کا مسئلہ ہے،پاکستان کا مالی خسارہ بڑ ھ رہاہے،گردشی قرضے بھی بڑھ رہے ہیں،ریونیو نہیں بڑھے گا تو کسی کو تو یہ ادائیگی کرنا ہو گی،جو سیکٹر ابھی ٹیکس نہیں دے رہے،انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام پاکستانی معیشت، آئی ایم ایف پروگرام،چیلنجز اور مواقع پر پالیسی سمپوزیم کا انعقاد کیا۔

آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ماریہ ٹریسانے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف کے بارے میں نظریات درست نہیں،آئی ایم ایف پاکستان میں منافع کمانے نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ جب رکن ممالک مشکل میں ہوں تو پروگرام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف ٹیکنیکل معاونت اوردیگر بہت سے اقدامات کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بیلنس آف پے منٹ کا مسئلہ ہے،پاکستان ایک چیلنجنگصورتحال میں ہے،پاکستان کا مالی خسارہ بڑ ھ رہاہے،گردشی قرضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا دیگر ممالک کے مقابلے میں ریونیو کلیکشن بہت کم ہے،پاکستان میں انوسمنٹ بہت کم ہے،جی ڈی پی کا دس فیصد انوسمنٹ ہے جو 20 فیصد تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مالی خسارہ اور قرضے بھی زیادہ ہیں،ریونیو نہیں بڑھے گا تو کسی کو تو یہ ادائیگی کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پاور سیکٹر کا سرکولرڈیڈ 700 ارب تک ہے جو بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں سرکولر ڈیڈ پر قابو پانا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس دھندگان کی شرخ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں تعلیم کی شرخ بہت کم اور صحت کی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو سیکٹر ابھی ٹیکس نہیں دے رہے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو مارکیٹ کے مطابق ایکس چینج ریٹ کی ضرورت ہے،پاکستان میں ایکس چینج ریٹ میں لچک ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…