جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پیدائشی ڈیفیکٹڈ کا بیان کس کیلئے استعمال کیا تھا؟ فردوس عاشق اعوان ڈٹ گئیں ، بڑاعلان کر دیا

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ان کا پیدائشی ڈیفیکٹڈ کا بیان کسی خاص شخص کے لیے نہیں تھا اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہو وہ ڈیفیکٹڈ ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ عمران خان کا مینڈیٹ ہے، انہیں پارلیمنٹ نے پہلے سلیکٹ کیا پھر اپنے ووٹ سے الیکٹ کیا

لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جسے تاحیات سپریم کورٹ نے ری جیکٹ کیا، سلیکٹیڈ، الیکٹڈ اور ایک تاحیات ری جیکٹڈ کی بات ہونی چاہیے، اس کے ساتھ ایک سیاسی لیڈر ایسا بھی ہے جو پیدائشی ڈیفیکٹد ہے۔اس حوالے سے نجی ٹی وی کے گروپرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیدائشی ڈیفیکٹڈ طبی اصلاح ہے، اسے سیاست کارنگ کیوں دیا جارہا ہے، اپنے الفاظ پر قائم ہوں پیچھے نہیں ہٹ رہی، بیان کسی خاص شخص کے لیے نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جس کے اپنے عمل اس کی زبان کے ساتھ نہ ہوں وہ پیدائشی ڈیفیکٹڈ ہے، کوئی بھی سیاسی شخص ہو سکتا ہے جس میں پیدائشی نقائص ہو، پیدائشی نقائص جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور کسی میں بھی ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب اپنے ایک بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بارٹیکس وصولی کو تحریک کی شکل دی، پاکستان کو خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرنے کی جانب عملی قدم کپتان نے اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ہم قوم بن کر محتاجی کی دلدل سے نکلنے کی جدوجہد کریں، وزیراعظم نے سیاسی نہیں قومی مفاد میں جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں، اس کڑی دھوپ سے ایک بار ہم ہمت، حوصلے اور استقامت سے گزر گئے تو مستقبل روشن ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…