سٹیل ملز کی بحالی ،چینی کمپنی کی رالیں ٹپکنے لگیں

  جمعرات‬‮ 27 جون‬‮ 2019  |  16:40

کراچی(این این آئی)وزارت صنعت و پیداوار اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے جہاں حبکو کی بطور ایکسپرٹ گروپ تقرری کی کوششوں کے بعد اب ایک چینی کمپنی کو ادارے کی بحالی و بہتری کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق چینی کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا(ایم سی سی)کے ماہرین پرمشتمل15رکنی ٹیم ان دنوں اسٹیل مل کے دورے پر ہے جہاں ادارے کی بحالی و بہتری کے حوالے سے حکمت عملی و اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا نے وزارت صنعت و پیداوار کو 3دسمبر2018میں ایک خط لکھا تھا جس میں


اسٹیل مل کی بہتری و بحالی کے حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا تھا ۔وزارت صنعت و پیداوار نے اسٹیل مل کی انتظامیہ کو چینی وفد کے ایک تا دو ہفتے کے قیام،ٹرانسپورٹیشن اور اسٹیل مل و رہائشی کالونی میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا کا شمار دنیا کی ٹاپ500کمپنیوں میں ہوتا ہے ،کمپنی کو انجینئرنگ ،ریئل اسٹیٹ اور اسٹیل ڈیپ پراسیسنگ کے شعبہ جات میں مہارت حاصل ہے ۔ اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے حکومتی پریشانی کی کیفیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس وقت اسٹیل مل میں کسی قسم کی با اختیار انتظامیہ موجود نہیں ہے ۔ادارے میں نہ تو کوئی مستقل سربراہ موجود ہے جبکہ چیف فنانشل افسر کے عہدے پر بھی عارف شیخ کنٹریکٹ پر عارضی طور پر ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں جن کے کنٹریکٹ کی مدت جولائی میں ختم ہورہی ہے ۔اس حوالے سے پاکستان اسٹیل اسٹیک ہولڈرز گروپ کے کنوینر ممریز خان نے بتایاکہ اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی،کبھی تو وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے بورڈ کو اعتماد میں لیے بغیر حبکو کا بطور ایکسپرٹ گروپ تقرر کیا جاتا ہے اور کبھی کسی چینی کمپنی کو محض ایک خط پر ادارے کی بحالی کا ٹاسک دیدیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے اقدامات اور فیصلے پیپرا قوانین کے خلاف ہیں جس کا نوٹس لینا چاہیے ،اسٹیل مل کی بندش کو چار سال ہونے کو آئے ہیں،ادارے کی بندش سے نہ صرف ہزاروں ملازمین کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے بلکہ خزانے کو ہر سال اسٹیل مصنوعات کی در آمدات کی مد میں اربوں ڈالرکا قیمتی زرمبادلہ بھی خرچ کرنا پڑرہا ہے جس کے نتیجے میں تجارتی عدم توازن بھی پیدا ہورہا ہے ۔حکومت اگر اسٹیل مل کی حقیقی بحالی چاہتی ہے تو ادارے میں مستقل سربراہ کی تعیناتی کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی از سر نو تشکیل کرنا ہوگی،ماضی میں ادارے کو بے دردی سے لوٹنے والے عناصر کا کڑا احتساب کرنا ہوگا اور امپورٹ مافیا کے بجائے ملک کا مفاد ملحوظ خاطر لانا ہوگا۔

موضوعات:

loading...