ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بے بنیاد اور یکطرفہ خبروں پر حکومت پاکستان کا بی بی سی سے باضابطہ احتجاج،دو جون کی خبر پر ڈوزیئر حوالے،ایکشن نہ لیا تو کیا کرینگے؟دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 18  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)بے بنیاد اور یکطرفہ خبروں پر حکومت پاکستان نے بی بی سی سے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے دو جون کی خبر پر ڈوزیئر بی بی سی کے نمائندے کے حوالے کر دیا۔منگل کو وزارت اطلاعات و نشریات کا احتجاجی ڈوزیئر 19 صفحات پر مشتمل ہے،ڈوزیئر پاکستان میں انسانی حقوق کی خفیہ خلاف ورزیوں سے متعلق خبر پر بھیجا گیا۔ڈوزیئر کے مطابق 2 جون کو شائع ہونے والی خبر صحافتی اقدار کے خلاف اور من گھڑت تھی،خبر میں فریقین کا موقف نہیں لیا گیا

جو کہ بی بی سی کی ادارتی پالیسی کیخلاف ہے۔ڈوزیئر کے مطابق بغیر ثبوت خبر شائع کرکے ریاست پاکستان کیخلاف سنگین الزام تراشی کی گئی، تجزیئے سے واضح ہوتا ہے کہ خبر میں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی ڈوزیئر کے مطابق خبر میں حقائق کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، خبر میں حتمی نتائج کا اخذ کرنا غیرجانبدار اور معروضی صحافت کیخلاف ہے۔ڈوزیئر کے مطابق خبر کا تفصیلی تجزیہ علیحدہ مراسلے میں ارسال کیا جارہا ہے۔وزارت اطلاعات کے ڈوزیئر کے مطابق حکومت پاکستان کو امید ہے کہ خبر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی، بی بی سی معافی مانگ کر متعلقہ خبر اپنی ویب سائٹ سے ہٹائے۔ ڈوزیئر کے مطابق امید ہے کہ آئندہ پاکستان مخالف جعلی خبروں کی اشاعت سے اجتناب کیا جائیگا،ایکشن نہ لیا گیا تو پاکستان اور برطانیہ میں تمام قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ڈوزیئر کے مطابق احتجاجی مراسلہ برطانیہ میں میڈیا کے ریگولیٹری ادارے کو بھی بھجوایا جائیگا، برطانیہ میں پریس اتاشی معاملہ آفس آف کمیونیکیشن اور بی بی سی کے سامنے اٹھائیں گے،بی بی سی نے قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق جھوٹی خبر شائع کی،بی بی سی کی رپورٹ قطعی یکطرفہ تھی، آئی ایس پی آر کا موقف بھی نہیں لیا گیا تھا۔ڈوزیئر کے مطابق ریاسی اداروں کے جائز آپریشن کو دہشت گردی کے مساوی قرار دینا گمراہ کن ہے، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر غلط خفیہ معلومات کی بنیاد پر معافی مانگ چکے ہیں۔

ڈوزیئر کے مطابق کیا بی بی سی نے برطانوی فوج کی عراق اور افغانستان میں موجودگی کے وقت ایسی خبر شائع کی، ڈوزیئر کے مطابق پاک فوج نے کبھی بھی عدنان رشید کے قتل کو تسلیم نہیں کیا۔ احتجاجی ڈوزیئر کے مطابق صحافی کی جانبداری اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے واضح ہے، بی بی سی کے مختلف نمائندوں نے 14 مرتبہ قبائلی علاقوں کا دورہ کیا۔ ڈوزیئر کے مطابق خبر شائع کرنے والے رپورٹر نے کبھی بھی وزیرستان جانے کی درخواست نہیں دی۔ڈوزیئر کے مطابق خبر کا مقصد حقائق جاننا نہیں بلکہ پاک فوج کے خلاف ایجنڈے کا فروغ تھا۔ڈوزیئر کے مطابق صحافی نے خبر میں پاکستان کے فضائی حملوں کا ذکر کیا مگر ڈرون حملوں کا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…