جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے،تاجر سابق وزیرخزانہ کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے،ڈالر کے ساتھ اب کیا ہوگا؟انتباہ کردیا

datetime 15  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی نے کہاہے کہ ملک میں روپے کی قدر مزید نہیں گرنی چاہیے، اگر ڈالر اور اوپر گیا تو ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہوجائیگی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب لوگ روپے کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتے جن لوگوں نے بینکوں میں ڈالر رکھے ہوئے ہیں ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت روپے پر جو دباؤآ رہا ہے یہ طلب اور رسد کا ہے، ہمارے تجارتی خسارے کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط پہلے آسان ہوتی تھیں لیکن اب انہوں نے مشکل فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے، غیرمقبول فیصلوں کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے لیکن اس سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ملک کو پیچھے لے جانے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں، اب آگے لے جانے کے لیے قیمت بھی ہمیں ہی ادا کرنی ہوگی۔پاکستان کے سرمایہ کار نے جتنی ترقی کی ہے، اتنی دنیا کے کسی ملک کے سرمایہ کار نے نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ میں افواہیں پھیلانے کا رجحان ختم ہو۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس، بینک ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو بالکل ٹیکس نہیں دیتے۔ بجٹ خسارہ نہ بننے دینا موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، اب ان کا امتحان ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے، انہوں نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے لڑائی لڑی، وہ پاکستان کے مفاد کے لیے لڑ رہے تھے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ فوج اگر بجٹ کم کرنے کا کہہ رہی ہے تو ہمیں ملک کے معاشی حالات کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا پورا ملک کرپشن اور کالے دھن سے چل رہا ہے، دو سال سے پاکستان نے بیرون ملک

اس کی منتقلی کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت میں کاروباری سرگرمیاں بہت ہیں لیکن وہاں غربت بھی وہاں بہت ہے۔انہوں نے کہا کہ صبح شام صرف سیاستدانوں کی کرپشن کی بات ہوتی ہے لیکن ایف بی آر، ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے پیسے کمانے والوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے اور جعلی کیسز بنانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا بینکاری نظام صرف 34 خاندانوں کو خدمات دیتا ہے، حکومت نے بینکوں پر حکومتوں کو قرضے دینے سے متعلق ٹیکس بڑھا کر اچھا کام کیا ہے کہ اس سے ان کی زیادہ ترجیح سرمایہ کار ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…