جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

 اداروں کا کردار مشکوک اور جانبدارانہ ہے،چہیتے کے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے تمام حدیں پار کر لی گئیں، اسفندیار ولی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 10  جون‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سول مارشل لاء ہے اور اپنے چہیتے کھلاڑی کے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر وہ کچھ کیا گیا جس پر آج پاکستان کی دنیا کے سامنے جگ ہنسائی ہو رہی ہے،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اداروں کا کردار مشکوک اور جانبدارانہ ہے،

چہیتے کھلاڑی کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے اس کے راستے سے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں اور سیاسی مخالفین کو یکے بعد دیگرے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری سے انتقام کی بو آ رہی ہے، اداروں کے کردار پر آج ملک کا بچہ بچہ انگلیاں اٹھا رہا ہے،اور ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کو سبوتاژ کر کے مسلط کردہ شخص ملک چلانے کا اہل نہیں،انہوں نے کہا کہکھلاڑی کو اپنے عہدے پر اور مضبوط کرنے کیلئے مقتدر قوتوں کی جانب سے سیاسی لوگوں کو بدنام کرنے ان کو انتقام کا نشانہ بنانے اور چہیتے وزیر اعظم کیلئے اس کے راستے سے تمام رکاوٹیں ہتانے کیلئے کسی بھی انتہائی قدم سے گریز نہیں کیا جا رہا،احتساب کے نام نہاد نظام کو چہیتے کے مخالفین کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،ملک میں جنگل کا قانون ہے اور گزشتہ دس ماہ سے ہر ایک اہم مرحلے پر بریکنگ نیوز دی جا رہی ہے تا کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے،انہوں نے کہا کہ سارے ملک کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ مسلط حکومت نے اس بار بجٹ میں ان کی مزید چیخیں نکالنی ہیں،اس لئے بجٹ سے ایک روز قبل آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا ہے،تاکہ آصف زرداری کی گرفتاری کی آڑ میں عوام پر مہنگائی کا بم گرایا جا سکے،اسفندیار ولی خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کو ریلیف اور سہولتیں دینے میں ناکام ترین حکومت اور اس کے ہمنوا ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں جو کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں،

انہوں نے کہا کہ ملک کمزور اور عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے،ایسی صورتحال میں ذمہ داروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں،اور انتقام کی سیاست سے گریز کرنا چاہئے،انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں عوام کی حکمرانی کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا نا گزیر ہے،اے این پی کا روز اول سے نعرہ رہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے عمل کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں،مخصوص مفادات کے تحفظ کا سلسلہ بند ہونا چاہئے،عوام با شعور ہیں، اور میڈیا کے اس جدید دور میں ہر شخص انتہائی با خبر ہے،لہٰذا تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں اور کسی قوت کا آلہ کار نہ بنیں،

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کا ٹرائل جاری ہے لیکن قوم سوال کرتی ہے کہ مسلط وزیر اعظم اور ان کی باجی تحقیقات سے مبرا کیوں ہیں؟انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن کی ایک سے بڑھ کر ایک داستان موجود ہے، پرویز خٹک نے بی آر ٹی میں کمیشن اور کرپشن کی انتہا کر دی  لیکن بدقسمتی سے نیب حکومتی آلہ کار کے طور پر خاموش ہے، اسی طرح ملم جبہ اراضی سکینڈل میں موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے اور نیب ان پر ہاتھ ڈالنے سے کترا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ سپیکر اور کٹھ پتلی وزیر اعظم کی بغل میں بیٹھے چند وزراء کے خلاف انکوائریاں بند کر دی گئیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی چھتری تلے سب فرشتے جبکہ سیاسی مخالفین چور اور ڈاکو ڈکلیئر کئے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…