جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آصف زر داری کی گرفتاری، پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی میں ہنگامہ،سپیکر ڈائس کا گھیراؤ،بار بار وارننگ بھی کام نہ کر سکی،افسوسناک صورتحال

datetime 10  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن نے سابق صدر آصف علی زر داری کی گرفتاری اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی جانب سے مائیک بلاول بھٹو زر داری کی بجائے وزیر ریلوے شیخ رشید کو دیئے جانے پر شدید احتجا ج کرتے ہوئے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا، ڈپٹی سپیکر کی جانب سے شیخ رشید کے بعد بلاول بھٹو زر داری کو مائیک دینے اور اجلاس ملتوی کر نے کی بار بار وارننگ کے باوجود اپوزیشن ارکا ن نے احتجاج جاری رکھا،

اپوزیشن کے شدید شور شرابے کے باعث وفاقی وزیر شیخ رشید تقریر نہ کر سکے، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس(آج)منگل کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان سابق صدر آصف علی زر داری کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید احتجاج کیا اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی سابق صدر آصف علی زر داری کے پروڈکشن آرڈر جاری کر نے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دور ان ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی تقریر کے بعد مائیک وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو دینے پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو زر داری کو مائیک دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہاکہ میرے لئے بلاول بھٹو قابل احترام ہیں، نشستوں پر بیٹھ جائیں تو موقع فراہم کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ شیخ رشید کو ذاتی وضاحت پر فلور دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں کوئی دباؤ قبول نہیں کرونگا، اس طرح صورت حال جاری رہی تو اجلاس ملتوی کردونگا۔ انہوں نے کہاکہ یں نے یہ ایوان چلانا ہے، کیا روزانہ اس طرح آپ جمع ہونگے،میں نے نام پکار دیا ہے، اس لئے شیخ رشید اپنی بات مکمل کریں اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی جاری رکھی،

اپوزیشن ارکان کی جانب سے ”گو عمرا ن گو“ کے نعرے لگائے گئے جس پر حکومتی ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو اپنی تقریر جاری رکھنے کی ہدایت کی اس موقع پر شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر مجھے بات نہیں کرنے دی تو میں بھی کسی کو بات نہیں کرنے دوں گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر میں نے ریلوے کو منافع بخش ادارہ نہ بنایا تو عمران خان کو کہوں گا مجھے کوئی اور وزارت میں بھیج دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ریلوے سے کرپشن کا خاتمہ کردیا۔

انہوں نے کہاکہ اگر مجھے بات نہ کرنے دی تو بلاول بھی منی لانڈرنگ پر تقریر نہیں کریگا۔ شیخ رشید کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شورشرابہ جاری رہا ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کو وارننگ دی جاتی رہی کہ اگر آپ اپنی نشستوں پر نہ بیٹھے تو اجلاس ملتوی کر دونگا تاہم اپوزیشن ارکا ن نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی شدید شور شرابے کے باعث اپنی تقریر مکمل نہ کر سکے۔اپوزیشن ارکان کے شدید شور شرابے کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) منگل کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…