جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

افغانستان میں کٹھ پتلی ناجائز حکومت کیخلاف جہاد جائز ہے تو پھر پاکستان میں کٹھ پتلی کی مسلط حکومت کیسے جائز ہے؟مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر آخری وارکااعلان کردیا

datetime 9  جون‬‮  2019 |

ڈیرہ اسماعیل خان (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ افغانستان میں کٹھ پتلی ناجائز حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے تو پھر پاکستان میں کٹھ پتلی کی مسلط حکومت کو کیسے جائز قرار دیکر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔اتوار کو عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کی پالیسیوں کو پاکستان لاگو کرنے میں ہماری اسٹبلشمنٹ کام کرتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ افغانستان میں کٹھ پتلی ناجائز حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے تو پھر پاکستان میں کٹھ پتلی کی مسلط حکومت کو کیسے جائز قرار دیکر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نظریہ پاکستان سے متصادم اور ملک کے اسلامی تشخص کو مٹانے والی تبدیلی کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ملک کے وفادار ہیں،ہم جنگ نہیں چاہتے ایک پیج پر آنا چاہتے ہیں متنازعہ الیکشن ختم کرو۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم ملک توڑنے نہیں،ملک جوڑنے کی سیاست کرتے ہیں،میں آئین بنانے اور اسکے تحفظ کی جدو جہد کرنے والوں کی صف میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ فرسودہ ہوچکا ہے، ریاست کو نیا بیانیہ اختیار کرنا ہوگا، ہماری ریاست کوبھی اپنی سمت درست کرنا ہوگی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر بنائے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ اس کا حصہ رہی ہے۔انہوکں نے کہاکہ  جعلی اور نااہل حکومت کسی صورت قبول نہیں کریں گے، بے حیائی اور بیراہ روی کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ نئے جوش اور ولولے سے میدان میں اترنا ہوگا، ہمارے ملین مارچ عوامی سمندر تھے، اب صرف آگے نہیں بڑھنا حکومت پر آخری وار کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سے زیادہ ملک کا وفادار کوئی نہیں ہوسکتا، ملک کے خیرخواہ ہیں، جعلسازی اور دھاندلی سے بنائی گئی حکومت کو گھربھیج دینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…