جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

حکومت گرانے کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دینگے، اختر مینگل کا دبنگ اعلان

datetime 3  جون‬‮  2019 |

کوئٹہ(اے این این ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ حکومت گرانے کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دینگے، بلوچستان میں اگربیرونی قوتیں ہیں تو انہیں سامنے لا یا جائے، غداری کے القابات کے سامنے بے ضمیر ہانک باضمیر ڈٹ جاتے ہیں ۔اپنے ایک ٹویٹ اور نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسی کیخلاف مخصوص مقاصد کے تحت

ریفرنس دائر کیا گیا ۔چیئرمین نیب کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانا چاہیے ۔اپوزیشن جماعتیں یقین دہانی کرائیں کہ ان کی احتجاجی تحریک کا بینر6 نکات پر ہوگا تو انکا ساتھ دیں گے ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ غداری کے القابات وہ لاٹھی ہے جس سے ضمیروں کو ہانکنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس میں بے ضمیر ہانک جاتے ہیں اور باضمیر ڈٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت کو ٹیک اوور کرنا نہیں چاہتے جمہوری تبدیلی لانا چاہتے ہیںاس سلسلے میں عید کے بعد ہم حکومت گرانے میں متحدہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کاساتھ دینگے ۔انہوں نے کہا کہ مغربی روٹ جس کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا موجودہ حکومت نے کوئٹہ سے اس پر پردہ اٹھا یا ہے صرف تختیاں لگی ہیں، کام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے،اس منصوبے پر کام رکا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے تنازع میں ہم درمیان میں ہیں اور بلوچستان ایک بار پھر دوسروں کی جنگ کا مرکز ہوگا ۔ ہم امریکا ، سعودی عرب سے دور رہ سکتے ہیں نہ ہی ایران سے ہٹ سکتے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ ہمارے معاشی حالات ہمیں کسی ایک کا حصہ بننے پر مجبور کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…