جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

”میں اپنا بیانیہ واپس لینے کیلئے تیار ہوں مگر میرے لیے یہ کام کیا جائے، مریم نواز کا جنرل باجوہ کو پیغام، جواب کیا ملا؟“ معروف صحافی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 31  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی صابر شاکر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم صفدر کی خاموشی اور اب لگاتار بڑھتی ہوئی تلخی کی وجہ یہ ہے کہ جو مراعات، جو این آر او حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ ہو نہیں سکا۔ کسی نے ان کی ٹرم اینڈ کنڈیشن سنی نہیں، معروف صحافی صابر شاکر نے کہا کہ میں مریم صفدر صاحبہ کو چیلنج کر رہا ہوں کہ

مریم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک مشترکہ بزرگ دوست کے ہاتھوں پیغام بھجوایا ہے کہ میں اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوں، میں اپنا بیانیہ واپس لینے کے لیے تیار ہوں، میرے لیے کوئی راستہ نکالا جائے، صابر شاکر نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بندے سے یہ کہا کہ قانون اپنا راستہ خود متعین کرے گا، اس سلسلے میں وہ کسی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے یہ عدالتوں کا کام یہ قانون کا کام ہے، یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے یہ معاملہ آپ اورعدالت ہی جانے۔ پروگرام کے اینکر نے کہا کہ بیانیے میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے تو صابر شاکر نے جواب دیا کہ بیانیہ پھر واپس آیا ہے، اب لہجے کی جو تلخی ہے وہ سارا فسانہ بتا رہی ہے کہ یہ تلخی کیوں آئی ہے، پہلے یہ پاؤں پڑتے ہیں معافیاں مانگتے ہیں اور اگر معافی نہ ملے تو آگے سے کوئی جواب نہ ملے تو یہ پھر اٹھتے ہیں اور گلہ کاٹنے کو دوڑتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ بیگم صفدر اس کی تردید کریں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔دوسری جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم صفدر کا وزیراعظم سے متعلق لب و لہجہ انکی فرسٹریشن کا اظہار ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ انہیں خوف ہے کہ عمران خان کی کامیابی سے ملک منافع بخش اور سیاسی جماعت کی آڑ میں ان کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی خسارے میں ہوگی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مریم صفدر کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے متعلق ناشائستہ لب و لہجہ ان کی بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا اظہار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…