جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پی آئی اے کے انجینئرز نے ناممکن کو ممکن کردکھایا، ایک اور بڑا طیارہ پرواز کیلئے تیار،خوشخبری سنادی گئی

datetime 31  مئی‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) پی آئی اے کے لئے رمضان ایک تاریخی اور برکتوں والا مہینہ ثابت ہوا ہے۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک ناقابل استعمال رہنے والے طیارے بوئنگ 777 BHV  جس کے دوبارہ قابل پرواز ہونے کے بارے نا امیدی پائی جاتی تھی کو بالآخر قابل پرواز بنا لیا گیا ہے۔پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائر مارشل ارشد ملک نے نومبر2018 میں پی آئی اے کے سربراہ کا چارج سنبھالنے کے بعد انجینئرنگ ٹیم کو طیارے کو جلد از جلد آپریشنل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

جس کے بعد انجینئرنگ اور مینٹینس ٹیم نے دن رات کام کرکے طیارے کو آپریشنل بنانے کا اہم ٹاسک مکمل کیا۔  نو مرمت شدہ طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب رہی ہے اور اس آزمائشی پرواز کے بعد طیارے کو باقاعدہ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے اس طیارے کی فضائی بیڑے میں شمولیت سے پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں 777 طیاروں کی تعداد 12 ہو گئی ہے جس سے مسافروں کو اضافی نشستوں کی دستیابی بھی ممکن ہو گئی ہے۔بوئنگ 777 طیارے کی بروقت مرمت سے آئندہ حج آپریشن میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔مذکورہ بوئنگ 777 طیارہ 393 نشستوں کا حامل طیارہ ہے جس کو دنیا کے کسی بھی ملک کی پرواز کے لئے استعمال کیاجا سکتا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے کے تمام کارکنوں کو اس بڑی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔انجینئرنگ، سپلائی چین سسٹم، فنانس، فلائیٹ آپریشن اور دیگر تمام شعبے جنہوں نے اس طیارے کی شیڈول میں واپسی کو کامیاب بنایا شاباش کے مستحق ہیں۔واضح رہے کہ پی آئی اے نے اپنے دستیاب وسائل سے طیارے کی مکمل اوورہالنگ کو ممکن بنایاہے اور پی آئی اے کی افرادی قوت نے اپنی بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوئنگ 777 طیارے کو دوبارہ سے فضائی بیڑے کا حصہ بنایا ہے جو کہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے کے گزشتہ دو برس کے دوران گراؤنڈ کئے گئے مزیدطیاروں کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور وہ طیارے بھی بہت جلد فضائی بیڑے میں شامل ہو جائیں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…