جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے کے انجینئرز نے ناممکن کو ممکن کردکھایا، ایک اور بڑا طیارہ پرواز کیلئے تیار،خوشخبری سنادی گئی

datetime 31  مئی‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) پی آئی اے کے لئے رمضان ایک تاریخی اور برکتوں والا مہینہ ثابت ہوا ہے۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک ناقابل استعمال رہنے والے طیارے بوئنگ 777 BHV  جس کے دوبارہ قابل پرواز ہونے کے بارے نا امیدی پائی جاتی تھی کو بالآخر قابل پرواز بنا لیا گیا ہے۔پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائر مارشل ارشد ملک نے نومبر2018 میں پی آئی اے کے سربراہ کا چارج سنبھالنے کے بعد انجینئرنگ ٹیم کو طیارے کو جلد از جلد آپریشنل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

جس کے بعد انجینئرنگ اور مینٹینس ٹیم نے دن رات کام کرکے طیارے کو آپریشنل بنانے کا اہم ٹاسک مکمل کیا۔  نو مرمت شدہ طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب رہی ہے اور اس آزمائشی پرواز کے بعد طیارے کو باقاعدہ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے اس طیارے کی فضائی بیڑے میں شمولیت سے پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں 777 طیاروں کی تعداد 12 ہو گئی ہے جس سے مسافروں کو اضافی نشستوں کی دستیابی بھی ممکن ہو گئی ہے۔بوئنگ 777 طیارے کی بروقت مرمت سے آئندہ حج آپریشن میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔مذکورہ بوئنگ 777 طیارہ 393 نشستوں کا حامل طیارہ ہے جس کو دنیا کے کسی بھی ملک کی پرواز کے لئے استعمال کیاجا سکتا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے کے تمام کارکنوں کو اس بڑی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔انجینئرنگ، سپلائی چین سسٹم، فنانس، فلائیٹ آپریشن اور دیگر تمام شعبے جنہوں نے اس طیارے کی شیڈول میں واپسی کو کامیاب بنایا شاباش کے مستحق ہیں۔واضح رہے کہ پی آئی اے نے اپنے دستیاب وسائل سے طیارے کی مکمل اوورہالنگ کو ممکن بنایاہے اور پی آئی اے کی افرادی قوت نے اپنی بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوئنگ 777 طیارے کو دوبارہ سے فضائی بیڑے کا حصہ بنایا ہے جو کہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے کے گزشتہ دو برس کے دوران گراؤنڈ کئے گئے مزیدطیاروں کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور وہ طیارے بھی بہت جلد فضائی بیڑے میں شامل ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…