بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ کے افغانستان فرار ہو جانے کی اطلاعات، سنگین دعویٰ کر دیا گیا

datetime 27  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ جنہوں نے گزشتہ روز پاک فوج کی چیک پوسٹ پر بزدلانہ حملہ کروایا، اس حملے کے بعد محسن داوڑ وہاں سے فرار ہو گئے تھے اور ابھی تک مفرور ہیں ان کے بارے میں ذرائع نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسن داوڑ افغانستان فرار ہو گئے ہیں، واضح رہے کہ اس حوالے سے حکومت اور پاک فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے،

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماء علی وزیر اور محسن جاوید داوڑ کی سربراہی میں گروہ نے خار کمڑ چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس سے پانچ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ محسن جاوید داوڑ مجمع کو مشتعل کرنے کے بعد فرار ہوگئے جبکہ علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر کی سربراہی میں ایک گروہ نے خار کمڑ چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس سے پانچ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے‘ آئی ایس پی آر کے مطابق گروہ کے حملے کا مقصد دہشت گردوں کے سہولت کار کو چھڑانے کیلئے دباؤ ڈالنا تھا علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ حملہ کرنے والے تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ دس زخمی ہیں تمام زخمیوں کو آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے محسن داوڑ مجمع کو مشتعل کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک فوج نے اشتعال انگیزی کے سامنے تحمل کا مظاہرہ کیا۔اس کے علاوہ صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشتونوں کے حقوق کے نام پر قومی اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج اور قبائل نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، فاٹا کے عوام کی بحالی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیاجائیگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے لوگ پشتونوں کو اداروں کیخلاف اکسارہے ہیں۔

یہ لوگ بیرونی ایجنڈے پر کار فرما ہیں، پشتونوں کے حقوق کے نام پر قومی اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے، ایسے لوگ ہی فاٹا میں امن اور ترقی کا عمل سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج اور قبائل نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، فاٹا کے عوام کی بحالی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیاجائے گا، میرانشاہ واقعہ پرافسوس ہوا ہے، اس واقعے کے بعد پی ٹی ایم کے ورکروں کو شرپسندوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…