ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پوری پاکستانی قوم کی طرف سے معافی مانگنے آیا ہوں، بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ’’فرشتہ‘‘ کے گھر پہنچ گئے

datetime 22  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دس سالہ بچی فرشتہ سے زیادتی اور قتل کے واقعہ شدید مذمت اور قاتل گرفتار نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند قدم پر وزیراعظم، صدر، آئی جی سمیت تمام کے دفاتر ہیں، کاش حکمران فرشتہ بچی کو اپنی بچی سمجھتے،میڈیا پر آکر ’’حکومت کر نا آسان ہے ‘‘ کی بات کرنے والا دھوکہ باز تو ہوسکتا ہے۔

حقیقی معنوں میں لیڈر یا حکمران نہیں ہوسکتا ،ایف آئی آر تک درج کرانے کیلئے دھرنے دینا پڑتے ہیں،وزیراعظم کے گرد سب چاپلوس اکٹھے ہیں، سب اچھے کی رپورٹ ملتی ہے، چند گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں ،فرشتہ کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو بیچ چوراہے سزا دی جائے۔ بدھ کو امیر جماعت اسلامی نے شہزاد ٹائون میں اغواء کے بعد زیادتی اور قتل ہونے والی دس سالہ بچی فرشتہ کے لواحقین سے ملاقات کی اور واقعہ پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ۔بعد ازاں لواحقین کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ ہم شرمندہ ہیں کہ رمضان کے مہینے میں بھی قوم کی بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ،یہ موجودہ حکومت کی ناکامی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اغوا کے بعد بچی کا والد پانچ روز تک بنی گالہ اور چک شہزاد تھانے میں انصاف لینے جاتا ہے،والد کو حوصلہ دینے کی بجائے دباؤ ڈالا جاتا ہے،اس واقعہ پر وزیراعظم اور انتظامیہ نے بچی کے گھر آنے کی زحمت نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ پانچ دن بعد جب مسخ شدہ لاش ملی جو جلائی گئی، جانوروں نے لاش کھائی،افسوس ہے لاش ملنے کے بعد احتجاج کے بعد بھی انتظامیہ نے دھمکانے کی کوشش کی۔انہوںنے کہاکہ میں گل نبی سے معافی مانگنے اور تعزیت کرنے آیا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان سے پوچھتا ہوں پولیس کے بہتر بنانے والے دعوے کہاں ہیں؟ اس واقعے پر تو ساری ریاست کو حرکت میں آنا چاہیے تھا۔سراج الحق نے کہاکہ زینب واقعہ کے بعد مزید دوہزار واقعات ہوچکے ہیں ،یہاں پوسٹ مارٹم پر بھی انتظامیہ نے لیٹ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کاش حکمران اس کو اپنی بچی سمجھتے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں کراچی، لاہور، پشاور سے لوگ آئے ،وزیراعظم کے سینے میں شاید دل نہیں اسی لیے کہتے ہیں حکومت کرنا آسان ہے۔ انہوں نے کہاکہ درحقیقت

حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے،چاروں طرف چاپلوس کرنے والے ہوں تو پھر حکومت کرنا آسان لگتا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت وی آئی ہی سٹیٹس ہونے کا نام نہیں ہے،اس قتل کو بھی لسانیت پھیلانے کی کوشش کی گئی، بچی تو بچی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قصور میں عیسائی جوڑے کو جلایا تو میں وہاں پہنچا ،ہمیں مجبور نہ کریں، لوگوں کے صبر کا امتحان نہ لیں،حکومت فرشتہ کے کیس کو اپنی بیٹی سمجھے۔

انہوں نے کہاکہ فرشتہ کے اغوا کار، زیادتی اور قتل کرنے والوں کو چوک میں سزا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں وزیراعظم اور گورنر کو آنا چاہئے تھا۔ انہوںنے کہاکہ یہاں متعلقہ ایم این اے اور پارلیمنٹرینز کو اس وقت تک کیمپ لگانا چاہیے جب تک قاتلوں کا سراغ نہ مل جائے،سب مل کر قاتل کا سراغ لگائیں۔ انہوں نے کہاکہ قصور کی زینب کے بعد 2 ہزار واقعات ہوچکے ہیں مگر لوگ اپنی عزت کی خاطر غم کو اندر ہی اندر سہتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی آر تک درج کرانے کے لئے دھرنے دینا پڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ وزیرستان یا کراچی کا مسئلہ نہیں، وفاقی دارالحکومت کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چند قدم پر وزیراعظم، صدر، آئی جی سمیت تمام کے دفاتر ہیں، کاش حکمران اس فرشتہ بچی کو اپنی بچی سمجھتے ،یہ اندھے ، گونگے، بہرے حکمران ہیں، جو کہتے ہیں حکومت کرنا آسان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ

خلفائے راشدین اور اسلامی زعما کہہ کر گئے ہیں حکمرانی کرنا آسان نہیں مگر ہمارا وزیراعظم اسے آسان سمجھتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کے گرد سب چاپلوس اکٹھے ہیں، سب اچھے کی رپورٹ ملتی ہے، لیکن ایک حساس شخصیت کے لئے یہ بہت مشکل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگوں نے اس معاملے کو لسانی بنیاد کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے، یہ بچی تو سب کی بچی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بعض میڈیا اور چینلز نے

جس نفرت کا زہر پھیلانے کی کوشش کی جسکی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آج فرشتہ اگر ملک میں محفوظ نہیں تو اس کا مطلب ہے یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمراں لوگوں کے صبر کا امتحان نہ لے اور اسلام آباد میں نہ آنے دیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر آپ اس بچی کو اپنے بچوں کی لاش کے طور پر ایکشن لیں حکومت کو چند گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں ،فرشتہ کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو

بیچ چوراہے کے سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو آئندہ ایسی جسارت کی اجازت نہیں دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ افسوس اس حلقے کا ایم این اے راجا خرم نواز تک نہیں آیا، یہاں تو ارکان کو کیمپ لگانا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلی پنجاب کو آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا پر آکر حکومت کو آسان کہہ کر ایسی بات کرنے والا دھوکہ باز تو

ہوسکتا ہے، حقیقی معنوں میں لیڈر یا حکمران نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر فرشہ بچی کے والد گل نبی نے بتایاکہ تھانے کو سب پتا ہے،ہمیں مجرم چاہئیں ۔ انہوں نے کہاکہ چودہ سال کے لڑکے کے ساتھ میری بچی کے جانے کی خبر غلط ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ آج اگر آپ اور ہم یہ سب نہ کرتے تو ایف آئی آر درج نہ ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ایف آئی آر کے لیے لانگ مارچ کرنا پڑتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…