منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

 جعلی عاملوں اور ڈبہ پیروں کی ڈیرے، سادہ لوح عوام لٹنے لگے، اولاد نرینہ کی گارنٹی سے لے کر کینسر تک کا علاج

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

کسووال(آن لائن)کسووال اور گردونواح میں جعلی عاملوں اور ڈبہ پیروں کی ڈیرے، سادہ لوح لٹنے لگے، اولاد نرینہ کی گارنٹی سے لے کر کینسر تک کے علاج محبوب قدموں، امتحان میں یقینی کامیابی تک کے دعوے، مختلف طریقوں سے تشہیر۔ تفصیل کے مطابق کسووال، اقبال نگر،90موڑاور نواحی دیہات میں جعلی عامل ڈبہ پیر سادہ لوح لوگوں کو سرعام لوٹ رہے ہیں۔

یہ ڈبہ پیر بلا شبہ لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں اور ان کی تمام آمدنی ٹیکس فری ہے۔ ان ٹھگوں کی کئی اقسام ہیں، متعدد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے پاس آئے والے لوگوں سے کسی معاوضے وغیرہ کا کوئی مطالبہ نہیں کرتے۔ ؤ ذرائع کے مطابق لوٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ کیونکہ ان کے پاس آنے والے اپنی “خوشی” سے ان کی اچھی خاصی “خدمت”  کرنے کی سعادت ھاصل کرتے ہیں۔ طرفہ تماش یہ ہے کہ ان جعلی بابوں کے پاس کینسر اور اسی قسم کے  دیگر جان لیوا امراض کے علاج کے علاوہ اولاد نرینہ کی گارنٹی بھی دیتے ہیں۔ یہ امتحانات میں یقینی کامیابی سے لے کر محبوب قدموں میں تک انسان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ اپنے ٹاؤٹوں جن میں خواتین  و حضرات شامل ہوتے ہیں کے ذریعے اپنی جعلی کرامات کا ڈھنڈورا پٹوا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو اپنی پاس آنے والے لوگوں سے مخصوص نسل کے کتوں اور گھوڑوں تک کی فرمائش کرتے ہیں۔اور بعد میں اپنی فروخت کر کے رقم اپنی جیب میں  ڈال لیتے ہیں۔ عوامی، سماجی و مذہبی حلقوں نے انتظامیہ سے ان ٹھگوں کے خلاف فوری اور موثر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایسے بعض ڈبہ پیروں کے ڈیروں پر دور دور سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ حاضر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…