پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پرپابندیاں،سکیورٹی کے نام پر انکی زندگی عذاب بن گئی ،بڑا قدم اُٹھالیاگیا، حکومت سے جواب طلب

datetime 16  اپریل‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) لاہورہائیکورٹ نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر کی نقل حرکت محدود کرنے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 19اپریل تک ملتوی کر دی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے کیس کی سماعت کی ۔ ایٹمی سائنسدان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان اور سٹریٹجیک احمد بلال صوفی پیش ہوئے اور

درخواست کا جواب داخل کرانے کیلئے مہلت مانگی۔ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے جواب داخل نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل 84 برس کے ہوگئے اور سکیورٹی کے نام پر انکی زندگی عذاب بن گئی ہے۔احمد بلال صوفی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو ہیں۔وکیل نے استدعا کی کہ جواب بند کمرے کی کارروائی پیش کیا جائے۔عدالت نے وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کے لئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…