جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا کام آئین اور قانون کی تشریح کرنا ہے،پھر کہتے عدالت انصاف نہیں کرتی، چیف جسٹس :مبینہ طور پر بیوی کو زندہ جلانے والا ملزم بری کرنے کا حکم

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے مبینہ طور پر بیوی کو زندہ جلانے والے محمد عمران کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہاکہ واقعہ کے آٹھ روز بعد ایف آئی آر کا اندراج کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ مرحومہ کے میڈیکل ریکارڈ کے مطابق سلنڈر دھماکہ ہوا، میڈیکل رپورٹ استغاثہ کی کہانی کی نفی کرتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مرحومہ کے شوہر کیخلاف 8 روز بعد ایف آئی آر کا اندراج بعد میں آنے والے خیال کا شاخسانہ ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ملزم کے سسرال کی بعد میں نیت خراب ہوئی کہ شاید کچھ پیسے مل جائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ دیکھیں ہمارا کام کتنا مشکل ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کا کام آئین اور قانون کی تشریح کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ پھر کہتے عدالت انصاف نہیں کرتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے خود اپنے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ عدالت نے کہاکہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا،شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزم محمد عمران کو بری کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ محمد عمران پر 2012 میں فیصل آباد میں اپنی بیوی کو زندہ جلانے کا الزام تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد عمران کو سزائے موت سنائی تھی۔ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…