منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ثاقب نثار ڈیم کے نام پر قوم کو بیوقوف بناگئے پیسوں کی وصولی انہیں سے ہونی چاہیے ،ن لیگ نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم کے نام پر قوم کو بے وقوف بنا گئے ہیں۔ لہٰذا اب پیسوں کی وصولی انہی سے کرنی چاہئیے۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے کے دھوکے میں اس حکومت کو پاکستان کی عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے۔یہ حکومت پاپولر ووٹس میں آج بھی اقلیتی حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بنچز میں جو جماعتیں بیٹھی ہوئی ہیں وہ ڈھائی کروڑ ووٹس لے کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ اور یہ ایک کروڑ 70 لاکھ ووٹس کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ نئے پاکستان کی جو فلم قوم کو بیچی گئی ، جس میں جنت کا وعدہ کر کے آج قوم کو جہنم میں دھکیل دیا گیا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جوحکومت کی اقتصادی کارکردگی پر ایک چارج شیٹ ہے۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے اندر جو خسارہ ہے پچھلے سال کے مقابلے میں اس میں 100 ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم مجھ پر بھروسہ کرتی ہے ، میں چندے اکٹھا کرتا ہوں، آپ مجھے وزیراعظم بنا دیں اور پھر دیکھیں کہ قوم مجھ پر ٹیکس کی بارش کیسے کر دے گی۔ٹیکس ریٹرن میں بھی شارٹ فال دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بغیر چندہ مانگے 122 ارب روپے خرچ کرکے ڈیم کی زمین خریدی۔ 13 ارب روپے خرچ کرکے تشہیری مہم چلائی گئی اور 9 ارب روپے اکھٹے کیے گئے۔ ان کے وزیر کہتے تھے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی دو سو ارب ڈالر بھیجیں گے۔ ڈیم فنڈ کی جمع ہوئی رقم میں سوا ارب روپے بیرون ملک سے آئے، جبکہ باقی سارا پیسہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر ڈاکہ ڈال کرزبردستی پیسہ اکھٹا کیا گیا۔فوج کی تنخواہیں کاٹ کر دو ارب روپیہ جمع کروایا گیا۔ ٹیچرز کی اور سرکاری ملازم کی ایک یا دو دن کی تنخواہیں کاٹ لی گئیں اور جس محکمے کا کیس زیر سماعت ہوتا تھا اس کا سربراہ جا کر چیف جسٹس کو چیک پیش کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سابق چیف جسٹس کو قوم کے سامنے پیش ہونا چاہئیے، جو بابائے ڈیم بنے اور جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ڈیم بنائیں گے وہ قوم کو ڈیم کے نام پر بھی بے وقوف بنا کر چلے گئے۔ 11 سو ارب کا پراجیکٹ ہے جب تک آپ کے پاس 8 ارب ڈالر نہیں ہوں گے کوئی ٹھیکیدار اپنی بڈ جمع نہیں کروائے گا، ان پیسوں کی وصولی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کرنی چاہئیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…