جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

’’عدالتوں کو تالے لگنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے‘‘ چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ وکلاء کی ہڑتال کے آگے بے بس

datetime 23  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالتوں کو تالے لگنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے،ججز کی پارکنگ، سائلین کی جگہ، آئیسکو دفاتر ہر جگہ وکلا نے قبضہ کرلیا۔اسلام آباد کچہری کے معاملات سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس نے سماعت کی۔ کچہری میں ایک ماہ سے جاری وکلا کی ہڑتال پر چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالتوں کو تالے لگے۔

عدالتوں کو تالے لگنا ریکارڈ پر ہے جو ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے، ججز کی پارکنگ، سائلین کی جگہ، آئیسکو کے دفاتر سب جگہوں پر وکلا نے قبضہ کرلیا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے کچہری کوسیکورٹی رسک قراردے دیا ہے، بار کی میٹنگز مجھ سے ہورہی تھیں پھر اچانک ہڑتال پر جانا سمجھ نہیں آیا، ججز نے ہڑتال نہیں کی تفصیلی رپورٹ میرے پاس آگئی، جہاں بار کو طاقت ور ہوناچاہئے وہاں مخصوص لابی طاقت ور ہے، ہزاروں مقدمات التوا کاشکار ہوگئے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ہم تنگ آگئے ہیں ججز کام نہیں کررہے،آپ مداخلت کریں، آپ کچہری میں آئیں حالات کا خود جائزہ لیں تاکہ معاملہ حل ہو، اگر تھوڑا کچھ ہوا ہے تو ہم معذرت کرنے اوربیٹھنے کے لئے تیارہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی بجائے مخصوص لوگ طاقت ورہوں گے تو ہم کیاکریں، طاقت ورلابی کے خلاف بار کو خود کھڑا ہونا ہے۔عدالت نے سیکریٹری داخلہ،سکریٹری قانون وانصاف،چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنراسلام آباد،آئی جی اسلام آبا، صدراسلام آبادبارایسوسی ایشن اوروائس چیئرمین اسلام آبادبارکونسل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کوتفصیلی رپورٹس بھی جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…