منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

2008 تک پاکستان پر کل قرضہ 6 ہزار 562 ارب روپے تھا، 2018ء تک کل ملکی قرضے میں کتنا بڑا اضافہ ہوا؟انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) حکومت نے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردی ہے جس کے تحت ملک پر قرضوں کا حجم 28 ہزار 252 ارب روپے ہے۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے سوال پر وزیر خزانہ کی جانب سے دیئے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 2008 تک پاکستان پر کل قرضہ 6 ہزار 562 ارب روپے تھا،

2013 میں یہ قرضہ بڑھ کر 15 ہزار 872 ارب روپے ہوگیا۔ 2018 تک کل ملکی وغیر ملکی قرضہ 28 ہزار 252 ارب روپے ہے۔اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر ہونے کا کہا، اسحاق ڈار کی بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا لیکن ماضی میں اس حوالے سے ایک معاہدہ بھی کیا گیا جو انوسٹی گیشن کے حوالے سے تھا ، پچھلا معاہدہ نامکمل تھا اور صرف ڈبل ٹیکسیشن پر تھا۔ موجودہ حکومت نے اس معاہدے پر دوبارہ بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس 29 ممالک کا ڈیٹا آچکا ہے، ڈیڑھ لاکھ اکاؤنٹس ہیں، جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کون سے ڈکلیئرڈ ہیں۔حماد اظہر نے بتایا کہ بینک اسلامی کے 6 ہزار اکاؤنٹس کا ڈیٹا چوری کیا گیا تاہم کسی اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ سے رقم نہیں نکالی گئی، اسٹیٹ بینک نے کراس بارڈر فنانسنگ پرمزید سختی کی ہے۔ جون 2018 تک بجٹ خسارہ 2260 ارب روپے ہے، ایف بی آر نے مالی سال 18۔2017 میں 3844 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا۔  حکومت نے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردی ہے جس کے تحت ملک پر قرضوں کا حجم 28 ہزار 252 ارب روپے ہے۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے سوال پر وزیر خزانہ کی جانب سے دیئے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 2008 تک پاکستان پر کل قرضہ 6 ہزار 562 ارب روپے تھا، 2013 میں یہ قرضہ بڑھ کر 15 ہزار 872 ارب روپے ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…