بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

طالبات کے لیے بڑا دھچکا! سرکاری میڈیکل کالجز کی نئی داخلہ پالیسی جاری

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے میڈیکل تعلیم کے شعبے میں نجکاری کی سمت پہلا قدم بڑھاتے ہوئے سرکاری نرسنگ کالجز میں زیرِ تعلیم طالبات کا ماہانہ وظیفہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بی ایس این کے چار سالہ پروگرام کے لیے نئی داخلہ پالیسی بھی جاری کردی گئی ہے، جس کے تحت سرکاری نرسنگ کالجز میں خواتین طالبات کے لیے ہاسٹل کی مفت سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

تبدیل شدہ پالیسی کے مطابق اب سرکاری اداروں میں بھی پرائیویٹ کالجز کی طرز پر نرسنگ کی طالبات سے فیس وصول کی جائے گی، اور انہیں سالانہ ہزاروں روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اس سے قبل حکومت نرسنگ طالبات کو 31 ہزار 600 روپے ماہانہ وظیفہ دیتی تھی جو اب روک دیا گیا ہے۔

مزید برآں، نرسنگ کالجز میں داخلوں کا عمل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت پنجاب کے 45 سرکاری نرسنگ کالجز میں 3100 نشستوں پر داخلے ہوں گے، جبکہ 15 نرسنگ کالجز کی شام کی شفٹوں میں مزید 1400 سیٹوں پر داخلے کیے جائیں گے۔

ادھر پنجاب کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کوٹہ سسٹم کے تحت داخلوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا آغاز یکم دسمبر سے ہوگا۔ امیدوار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔

اس مرتبہ پہلی بار پنجاب دیگر صوبوں کے امیدواروں سے بھی براہِ راست درخواستیں وصول کرے گا۔ کابینہ سے منظور شدہ نئی پالیسی کے مطابق اس سال کاغذات نامزدگی کے بجائے براہِ راست درخواستوں کی بنیاد پر داخلے عمل میں آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…