منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آئل ٹینکر میں چھپا کر معصوم بچیوں کی ایران سمگلنگ، ویڈیو دیکھ کر مردان کے مقیم والدین نے اپنی بیٹی کو پہچان لیا، برآمد ہونیوالے بچے اب کہاں ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

مردان (نیوز ڈیسک) آئل ٹینکر میں چھپا کر معصوم بچوں کی ایران سمگلنگ بارے ویڈیو سامنے آئی، جسے مردان میں ایک بچی جو 19 ستمبر سے لاپتہ ہے کے والد نے دیکھا اور اپنی بچی کو شناخت کر لیا، اس چھ سالہ بچی کا نام فرشتہ نور ہے، بچی گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی، فرشتہ نور کے والد نے کنٹینرز میں موجود بچوں میں سے اپنی بچی کو پہچان لیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس کی بچی کو بحفاظت ان کا پہنچایا جائے۔

بچی کے والدین کا تعلق مردان کے علاقے منڈی شریف آباد سے ہے۔ نامعلوم ملزمان کے خلاف سٹی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا تھا، جب یہ ویڈیو اس بچی کے والد نے دیکھی تو اس نے اپنے خاندان والوں کو بھی ویڈیو دکھائی جس میں انہوں نے اپنی بچی فرشتہ نور کو شناخت کر لیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران میں بچوں کی اسمگلنگ کی ویڈیو کے معاملے پر ترجمان خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ بازیاب بچی کی فیملی کے ساتھ ابھی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ ایران میں بچوں کی اسمگلنگ کی ویڈیو والا معاملہ دیکھ رہے ہیں، تاحال بچی کی فیملی سے رابطہ نہیں ہوا۔ایک آئل ٹینکر میں بچوں کو ایران اسمگل کیا گیا تھا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔ ترجمان کے پی حکومت نے کہا کہ آئی جی خیبر پختونخوا نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے، ڈی آئی جی محمد علی گنڈاپور اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم جس ادارے نے ویڈیو دی اسے حکومت سے بھی رابطہ کرنا چاہیے تھا۔دریں اثنا آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بازیاب بچی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، پولیس اور ایف آئی اے مل کر کام کر رہے ہیں۔آئی جی کے پی نے کہا کہ ابھی تک بچی کی شناخت سے متعلق کوئی تصدیق نہیں آئی، ڈی آئی جی محمد علی گنڈاپور بچی کی فیملی سے رابطہ کرکے بریف کریں گے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں پاکستانی بچوں کو ایک آئل ٹینکر میں ڈال کر ایران اسمگل کیا گیا تھا، جہاں انھیں بازیاب کرلیا گیا ہے، مقامی این جی او کا دعوی ہے کہ بچوں کو مردان، پشاور، نوشہرہ اور وزیرستان سے اغوا کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر سلیم کھوسہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور نجی چینل پر آئل ٹینکر کے ذریعے سمگل شدہ بچوں کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے آئل ٹینکر کے ذریعے سمگل کئے گئے بچوں کا بلوچستان کے راستے سے نہیں بلکہ افغانستان کے راستے سمگل ہوئے ہیں

جو بچے سمگل ہوئے ہیں ان کا تعلق افغانستان سے ہے جنہیں افغانستان کے راستے سے ایران سمگل کیا گیا ہے جو کہ ٹینکر ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ٹینکر بھی بلوچستان میں نہیں ہوتے لیکن محکمہ داخلہ بلوچستان واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور نجی چینل پر آئل ٹینکر جس میں بچوں کے سمگل ہونے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس ویڈیو کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان کے راستے یہ آئل ٹینکر ایران گیا ہے متعلقہ ادارے اس حوالے سے ان چیزوں پر نظر رکھتے ہیں جو بچے ویڈیو میں دکھائے گئے ہیں وہ فارسی زبان میں بات کررہے یہ پاکستانی نہیں بلکہ افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں بچوں کے حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…