ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

لاپتہ شخص کی بازیابی سے متعلق کیس کا تاریخی فیصلہ ،داخلہ اور دفاع کے سیکریٹریز، آئی جی اسلام آباد کو حیرت انگیز سزا سنادی گئی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) ہائی کورٹ نے لاپتہ شخص کی بازیابی سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ میں پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت سے لاپتہ شہری عبد اللہ کی بازیابی سے متعلق کیس کا گیارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع اور آئی جی اسلام آباد کی آدھی تنخواہ کی کٹوتی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہری کی بازیابی کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی، متعلقہ ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کی بھی آدھی تنخواہ کی کٹوتی کی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک لاپتہ شخص بازیاب نہ ہو اکاؤنٹنٹ جنرل ان افسران کی آدھی تنخواہ کی کٹوتی جاری رکھیں۔ہائی کورٹ نے داخلہ اور دفاع کے سیکریٹریز، آئی جی اسلام آباد ، جے آئی ٹی و دیگر افسران پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ اور تنخواہ کٹوتی کی رقم لاپتہ شخص کی بیوی کو ادا کی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکام نے لاپتہ عبد اللہ کو چھ ماہ میں بازیاب نہ کرایا تو مذکورہ افسران کا کیس وزیراعظم کو بھیجا جائے جو قانون کے مطابق ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کریں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے اور ریاستی ادارے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں، عدالت سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کے کردار کے حوالے سے مطمئن نہیں، ریاستی اداروں نے ہر چیز جاننے کے باوجود عدالت سے حقائق چھپائے۔ یہ کیس نہ صرف ریاستی اداروں اور ان کے افسران کی نااہلی کی اعلی مثال ہے بلکہ قانونی، مذہبی ، اخلاقی بے حسی اور ظلم کی نظیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…