اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت صوبے میں ڈیڑھ کلومیٹر کے اندر موجود سکولوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ، 978سرکاری سکول بند، عملے کو بھی گھر بھیج دیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت صوبے میں ڈیڑھ کلومیٹر کے اندر موجود سکولوں
کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبے بھر میں 978سرکاری سکول بند کئے جائینگے جبکہ فیصلے کے پیش نظر سکولوں میں تعینات نا ن ٹیچنگ عملے کو فارغ کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں بعض ایسے سکول بھی شامل ہیں جن میں دو طالب علم ہیں جبکہ اساتذہ کی تعداد سات ہے ۔بعض سکولوں میں طالب علموں کی تعداد بائیس جبکہ اساتذہ کی تعد اد 17 ہے ۔جن سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں 735 پرائمری ، 232 مڈل او گیارہ ہائی سکولز شامل ہیں۔ ان سکولو ں کی تعمیر پر 6ارب 26کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئی تھی جبکہ مجموعی طور پر سٹاف کی تنخواہوں کی مد میں سالانہ ایک ارب43 کروڑروپے سے زائد جبکہ دیگر اخراجات پانچ کروڑ روپے کے لگ بھگ تھے ۔ان سکولوں میں طلبا و طالبات کی تعداد 59598 ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی تعداد 3343 جبکہ ا ساتذہ کی تعداد 2236 ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ خیبرپختون خوا میں دعوں کے برعکس اسپتالوں کی حالت خراب ہے۔ ہسپتالوں کا فضلہ کئی بیماریوں کی وجہ ہے، 17 ہزار ٹن فضلہ روزانہ عوامی مقامات پر پھینکا جاتا ہے، کیا فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے مشینری ہے؟ جو حکومت تعلیم اور صحت فراہم نہیں کر سکتی وہ صرف نام کی ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سپریم کورٹ میں
خیبرپختون خوا کے ہسپتالوں کے فضلے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ صوبائی سیکرٹری صحت عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ روزانہ 21 ہزار کلو سے زائد فضلہ پیدا ہوتا ہے، کے پی کے میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا موثر نظام موجود ہے، عدالت دو ماہ کا وقت دے فضلہ ٹھکانے لگانے کی مشینری بھی نصب کر دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ موثر نظام ہونے کا بیان حلفی دیں،
اس کے بعد عدالت تحقیقات کروائے گی، فضلہ ٹھکانے لگانے کی مشین تندور نہیں جو ایک دن میں لگ جائے۔سپریم کورٹ نے صوبائی وزیر صحت کو منگل کو طلب کرتے ہوئے اسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختون خوا میں صحت کی سہولیات کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر چیف سیکرٹری نے خود تسلیم کیا کہ اسپتالوں کی
حالت خراب ہے، ایمرجنسی میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، صرف اسپتالوں کے بورڈ بنا دینا کافی نہیں، صوبے کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ بھی پورا نہیں، جو حکومت تعلیم اور صحت فراہم نہیں کر سکتی وہ صرف نام کی ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے کو دیکھنا عدالت کا کام نہیں، حکومت کی نااہلی کے باعث عدالت کو اسپتالوں میں مداخلت کرنا پڑی، ایوب میڈیکل کمپلیکس میںسہولیات کا فقدان ہے،سپریم کورٹ نے خیبرپختون خوا کے تمام سرکاری اسپتالوں کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے دستیاب سہولیات کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی گئی۔



















































