جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کل کی شرمندگی اور پچھتاوے سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کام کریں،رائے ونڈ عالمی تبلیغی اجتماع میں علماء کرام نے انتباہ کردیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

رائے ونڈ ( این این آئی) تبلیغی اجتماع کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کلمہ کی دعوت سے ہی انقلاب آسکتاہے توحید ایک نور ہے جو دل و جان کو ایمان کی روشنی سے منور کرتاہے آج کا بھٹکا ہوا مسلمان اپنی نجات کو رب کی بجائے سبب میں ڈھونڈ رہا ہے جو کہ ناکامی کا راستہ ہے رب کائنات کی عظمت کا اعتراف اور عقیدہ توحید رکھے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا

دنیا کی زندگی عارضی اور برف کی مانند ہے جو پگھل رہی ہے اس عارضی زندگی کو سب کچھ سمجھنے والا انسان ہی گھاٹے میں ہے دنیا کی رنگینیوں سے نکل آؤ زندگی کے مقصدکو سمجھو آخرت کی تیاری کرلو ،کل کی شرمندگی اور پچھتاوے سے بچنے کیلئے اپنی زندگی کو شریعت محمد ی کے مطابق ڈھال لو ۔مقررین نے مزید کہا کہ یہ دنیا جس کو ہم نے سب کچھ سمجھ لیا ،فانی ہے ،ہم سب نے اپنی اپنی باری پر مرنا ہے ،اور ایک دن اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے ،روزانہ ہم اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دبا کر آتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں موت پر یقین نہیں آرہا ،جس لمبے سفر پرہم سب نے اکیلے جانا ہے ہمیں اس کی تیاری کی بالکل فکر نہیں ،دنیا میں سب جھوٹ مگر موت برحق ہے ،اللہ کو ماننے کا مطلب موت پر یقین ہے ،اور موت پر یقین یہ ہے کہ ہم برے کام چھوڑ کر وہ کام کریں جس سے اللہ اور اس کا حبیب خوش ہوں اور ہمارا شمار بھی ان بندوں میں ہوجائے جن کے دائیں ہاتھ میں انکا نامہ اعمال تھمایا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کا مال و دولت ،اولاد ،رتبہ غرضیکہ ہر شے یہیں پر رہ جانی ہے ساتھ جانا ہے تو ہمارے اعمال نے ،لیکن اس بات کی کسی کو کوئی فکر نہیں ،حکومت کی فکر ہے ،کاروبار کاغم ہے ،بیوی بچوں کا خیال ہے ،مگر اپنی موت کی کوئی پرواہ نہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ دنیا ایک دھوکہ ہے ،اس دھوکے سے جتنی جلدی ہوباہر نکل آؤ ،کہیں دیر نہ ہوجائے ،اس دنیا کے خالق ومالک کے سامنے پیش ہونا ہے ،

تو کیوں نہ وہ کام بھی کرلیں جو ہماری نجات کا ذریعہ بن جائیں ،انہوں نے کہا کہ اچھے اخلاق پیدا کرو ،عبادات کو معمول بناؤ ،ایک دوسرے کے کام آنے کی عادت اپناؤ ،کڑوی بات کو برداشت کرنا سیکھو ،جھوٹ سے بچو ،توبہ کا راستہ اختیار کرو ،کیوں کہ اللہ کو سب سے زیادہ معافی پسند ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دلوں اور گھروں کی کدورتیں ختم نہیں کریں گے تو کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے ،اللہ کیلئے نفرتیں بھلاکر محبتیں بڑھاؤ بیانات کا سلسلہ آج اتوار اختتامی دعا تک جاری رہے گا ،جس کے بعد ہزاروں جماعتیں اشاعت دین کیلئے دنیا بھر کے طول و عرض میں پھیل جائیں گی ،

اجتماع کے دوران سابقہ مرحلہ کی طرح محکمہ صحت کی کارکردگی بالکل نکمی رہی ،جگہ جگہ استعمال شدہ سامان اور بچا کھچا کھانا نظر آیا ،جو کہ تعفن پھیلا رہا تھا ،باہر سٹالوں پر حسب معمول مضر صحت بیف کی فروخت ڈھٹائی کیساتھ جاری رہی ،محکمہ صحت کے کیمپ بند دکھائی دئیے ،اجتماع گاہ کے راستوں میں شدید گردوغبار اور دھول اڑتی رہی جبکہ سڑک پر پانی کے ٹینکروں کے بے تحاشہ چھڑکاؤ کی وجہ سے پھسلن پیداہوتی رہی جس کے باعث کئی مندوب الٹے سیدھے ہوتے رہے ،پہلے کی طرح بغیر نمبری موٹرسائیکل سوار اور آٹو رکشاؤں والے لوٹ مچاتے رہے ۔عالمی اجتماع کا دوسرا مرحلہ آج بروز (اتوار ) کو اختتامی دعا کیساتھ اختتام پذیر ہوجائیگا ،دعا سے قبل مولانا خورشید احمد ہدایات دیں گے جبکہ اختتامی دعا مولانا محمد ابراہیم آف انڈیا کروائیں گے اختتامی دعا میں تقریبا سات لاکھ افراد شرکت کریں گے

دعا کے بعد ہزاروں جماعتیں ملک بھر اور بیرون ممالک میں دعوت وتبلیغ کیلئے روانہ ہو جائیں گی ،تبلیغی مرکز جو اجتماع ایام میں بند تھا آج کھول دیا جائیگا جبکہ خصوصی ٹرین زائرین لیکر واپس کراچی روانہ ہو جائے گی ،جبکہ فیصل آباد روٹ کی چار ٹرینیں پاکستان ایکسپریس ،شاہ حسین ایکسپریس،قراقرم ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس آج براستہ رائے ونڈ کراچی روانہ ہوں گی ۔عالمی اجتما ع کے دوسرے مرحلہ میں تیس ہزار سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی جن میں ایران ،بنگلہ دیش،افغانستان سے آنیوالے افراد کی تعداد زیادہ ہے جبکہ روسی ریاستوں سے آنیوالے مندوبین کی تعداد دوسرے نمبر پر رہی ،اختتامی دعا کے بعدتمام غیر ملکی مہمان آج اپنے وطن روانہ ہو جائیں گے غیر ملکی مہمانوں کیلئے الگ سے حلقہ بیرون قائم کیا گیا تھا جہاں مقامی افراد کے داخلے پر سخت پابندی عائد تھی غیر ملکی مہمانوں کی تواضع مختلف کھانوں سے کی گئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…