اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ملتان میٹرو میں کرپشن کی تصدیق ہوگئی،چینی کمپنی کے 2 اہم افسر چین میں گرفتار،اعتراف جرم کرلیا،سنسنی خیز انکشافات

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) نیب کی جانب سے ملتان میٹرو بس پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس کے بعد اس کیس کی تحقیقات کرنے والی حکومتی ٹیم کو ملتان میٹرو کرپشن میں بڑی کامیابی کی امید پیدا ہوگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملتان میٹرو پراجیکٹ میں کام کرنیوالی چینی کمپنی نے راز اگل دیئے جس کی بنیاد پرچینی کمپنی کے دو اہم افسران کو چین میں گرفتار کرلیا گیا ہے ٗ

دوران حراست ملزمان نے کک بیک کااعتراف بھی کرلیا ، ملزمان کے اعتراف پر چین کے تحقیقاتی ادارے نے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا ہے جس پر نیب کی ٹیم بیجنگ روانہ ہوئی ۔چین نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو ملزمان تک رسائی دیدی ہے جبکہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں 3رکنی ٹیم گزشتہ شام بیجنگ روانہ ہوگئی ٗبیجنگ جانیوالی ٹیم میں ڈی جی نیب عرفان منگی اورڈپٹی ڈائریکٹر نیب ملتان شاہد شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب ٹیم اعترافی بیانات کیساتھ رقم منتقلی کی درخواست کرسکتی ہے، ملزمان نے ملتان میٹرو پراجیکٹ سے اربوں روپے چین منتقل کیے۔چین کے سکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن ( سی ایس آر سی ) کے مطابق یابائیٹی چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حبیب رفیق ( پرائیویٹ ) لمیٹڈ کو ایوارڈ کیے گئے میٹرو بس پراجیکٹ ملتان میں کیپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کے ذیلی ٹھیکیدار کے طور پر کام کیا اور اس کمپنی نے اٹھائیس ملین ڈالر کے منافع جات ظاہر کیے جن کی تحقیقات کیلئے 2016 میں ایس ای سی پی سے رابطہ کیا گیا تھا تاہم اس وقت کے چئیرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی اور چیف پراسیکیوٹر ایس ای سی پی مظفر مرزا نے چائنیز ریگولیٹر کی درخواست کو خفیہ رکھتے کسی قسم کی کارروائی نہ کی تاہم جولائی 2017 میں جب ظفر حجازی کو ریکارڈ ٹمپرنگ کیس میں ایس ای سی پی کی چئیرمین شپ سے معطل کیا تو یہ معاملہ منظر عام پر آیا جس پر معاملہ کی تحقیقات ایف آئی اے اور پھر بعد میں نیب کے حوالے کردی گئیں۔ نیب نے اس کیس میں تقریبا ایک سال کی تحقیقات کے بعد کک بیکس کا سراغ لگالیا اور چین کی کمپنی کے دو اہم افسران کو چائنیز ریگولیٹر کی جانب سے گرفتار کرلیا گیا ۔مزید برآں کیپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کے پاکستان میں رپورٹ کئے گئے پتہ پر جب ایس ای سی پی نے دورہ کیا تو انکشاف ہوا کہ دیئے گئے پتہ پر ایسا کوئی دفتر نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…