جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کی رہائی، پنجاب میں حالات قابو سے باہر، حکومت نے بڑی پابندی عائد کر دی

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ بی بی کے خلاف ناکافی شواہد کی وجہ سے اس کی رہائی کا حکم دیا، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جگہ جگہ راستے بند کر دیے گئے، جس کی وجہ سے چھٹی کے اوقات میں طالب علموں اور دفاتر کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، پنجاب کے محکمہ داخلہ نے پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہو گا

اور 10 نومبر تک جاری رہے گا۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے بعد ہر طرح کے جلسے جلوس ، احتجاج اور دھرنے پر پابندی ہو گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں آبپارہ چوک کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور یہاں ٹائر جلا کر احتجاج کا آغاز کیا گیا، اس کے بعد مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے فیض آباد بھی بند کر دیا، اس کے علاوہ لاہور میں احتجاج کی وجہ سے کئی علاقوں میں موبائل سروس بھی بند کر دی گئی، فیصلہ آنے کے بعد لاہور سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کا آغاز کر دیا، واضح رہے کہ تحریک لبیک نے اپنے کارکنوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی جمع ہونے کی کال دے دی تھی اور کہا کہ تھا کہ اگر آسیہ بی بی کو رہا کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا اور اگر رہا نہ کیا گیا تو دعا کروا کر منتشر ہو جائیں گے۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے گزشتہ روز علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تھا اس کے علاوہ داتا دربار کے باہر بھی دھرنا دیا گیا تھا، تحریک لبیک نے کراچی، شیخوپورہ اور قصور میں بھی احتجاج کرتے ہوئے علاقوں کو بند کرا دیا، اس کے علاوہ لاہور میں اسمبلی ہال چوک، داتا دربار، بابوصابو، چونگی امرسدھو اور دیگر علاقوں میں کشیدگی ہے۔ تحریک لبیک کی مرکزی قیادت اس وقت لاہور میں موجود ہے اس وجہ سے وہاں احتجاج میں شدت بھی زیادہ ہے، جس علاقے میں احتجاج کیا جا رہا ہے وہاں پر موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔ پشاور میں رنگ روڈ جمیل چوک پر احتجاج کیا گیا، تحریک لبیک کے احتجاج کی وجہ سے جی روڈ گوجر خان سے بند کر دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…