پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کی رہائی، پنجاب میں حالات قابو سے باہر، حکومت نے بڑی پابندی عائد کر دی

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ بی بی کے خلاف ناکافی شواہد کی وجہ سے اس کی رہائی کا حکم دیا، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جگہ جگہ راستے بند کر دیے گئے، جس کی وجہ سے چھٹی کے اوقات میں طالب علموں اور دفاتر کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، پنجاب کے محکمہ داخلہ نے پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہو گا

اور 10 نومبر تک جاری رہے گا۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے بعد ہر طرح کے جلسے جلوس ، احتجاج اور دھرنے پر پابندی ہو گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں آبپارہ چوک کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور یہاں ٹائر جلا کر احتجاج کا آغاز کیا گیا، اس کے بعد مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے فیض آباد بھی بند کر دیا، اس کے علاوہ لاہور میں احتجاج کی وجہ سے کئی علاقوں میں موبائل سروس بھی بند کر دی گئی، فیصلہ آنے کے بعد لاہور سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کا آغاز کر دیا، واضح رہے کہ تحریک لبیک نے اپنے کارکنوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی جمع ہونے کی کال دے دی تھی اور کہا کہ تھا کہ اگر آسیہ بی بی کو رہا کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا اور اگر رہا نہ کیا گیا تو دعا کروا کر منتشر ہو جائیں گے۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے گزشتہ روز علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تھا اس کے علاوہ داتا دربار کے باہر بھی دھرنا دیا گیا تھا، تحریک لبیک نے کراچی، شیخوپورہ اور قصور میں بھی احتجاج کرتے ہوئے علاقوں کو بند کرا دیا، اس کے علاوہ لاہور میں اسمبلی ہال چوک، داتا دربار، بابوصابو، چونگی امرسدھو اور دیگر علاقوں میں کشیدگی ہے۔ تحریک لبیک کی مرکزی قیادت اس وقت لاہور میں موجود ہے اس وجہ سے وہاں احتجاج میں شدت بھی زیادہ ہے، جس علاقے میں احتجاج کیا جا رہا ہے وہاں پر موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔ پشاور میں رنگ روڈ جمیل چوک پر احتجاج کیا گیا، تحریک لبیک کے احتجاج کی وجہ سے جی روڈ گوجر خان سے بند کر دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…