پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج حملے میں جاں بحق ،بھتیجی زخمی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

گوجرخان (آئی این پی )گوجرخان میں تہرے قتل کی لرزہ خیز وارداتیں، مندرہ چکوال روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر)چوہدری محمود اخترکو قتل کردیا جبکہ اس حملے میں ان کی بھتیجی زخمی ہوگئیں ، جنہیں فور ی طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال گوجر خان منتقل کردیاگیا جبکہ دوسرے وقوعہ میں نوجوان نے ایک دوشیزہ اسماء کوسر راہ فائر کر کے قتل کرنے کے

بعد خود کشی کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر)چوہدری محمود اختر کے قتل کی کی واردات مندرہ چکوال روڈ پرجاتلی کے قریب اس وقت کی گئی جب وہ اپنے آبائی گاؤں میں نماز جنازہ میں شرکت کے بعد کار پرواپس چکوال جارہے تھے کہ انکی کار پر اچانک نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے جبکہ ا ن کے ساتھ گاڑی میں موجود ان کی چالیس سالہ بھتیجی شدید زخمی ہو گئی،دوشیزہ کاقتل اور خود کشی کی واردات صندل روڈ پر پیش آئی جہاں 19سالہ بلال نے اپنی پسند کی دوشیزہ 18سالہ اسماء کواسکی شادی سے ایک ہفتہ قبل گلی سے گذرتے ہوئے فائرکر موت کی وادی میں دھکیلنے کے بعد خود کشی کر لی،گلی میں پڑی دونوں نعشیں پولیس نے ات گئے تک پوسٹمارٹم جاری تھا دوشیزہ کی اگلے ہفتے شادی ہونا تھی،تینوں نعشیں پوسٹمارٹم کی غرض سے تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال لائی گئیں، پولیس کے شعبہ ایچ آئی کی ٹیم فرانزک لیبارٹری کے ساتھ معمول کی کاروائیوں میں مصروف تھی ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سابق جج چوہدری محمود کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ

ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی اور مقتول کے خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے جسٹس ریٹائرڈ چوہدری محمد اختر کے قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بہیمانہ قتل میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔ منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے جسٹس ریٹائرڈ چوہدری اختر کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بہیمانہ قتل میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…