پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

میڈیا کی آزادی نے پاکستان کو بدل کر رکھ دیا ،حکومت کاپیمرا کو ختم کرنے سمیت متعدد بڑے اقدامات کا اعلان،تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد حسین چوہدری نے کہا کہ ہے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری میڈیا اتھارٹی(پیمرا)کو ختم کر کے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی،جو تمام میڈیا کو ریگولیٹ کریگی،جس کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے، جس پر تمام جماعتوں کے ساتھ مشاور ت کی جائیں گی،میڈیا کی ریگولیشن علیحدہ علیحدہ اداروں اداروں کے ذریعے ممکن نہیں۔

جمعرات کووفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کو بتایا کہ پاکستان میں اس وقت الیکٹرانک میڈیا کیلئے پیمرا، پرنٹ میڈیا کیلئے پریس کونسل اور سوشل میڈیا کی ریگولیشن کیلئے پی ٹی اے ہیں،چاہے ٹیلی وژن چینلز ہو ں ،اخبارات یا سوشل میڈیا سب کو ایک ادارے کے ذریعے ریگولیٹ ہونے چاہییں، اس مقصد کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کیا جارہا ہے، جس کا ڈرافت تیار کیا جا چکاہے،اس کا ابتدائی ورکنگ پیپر چیئرمین پی ٹی اے کو بھیجا گیا ہے ،صرف سروس رولز بننا باقی ہیں، یہ اہم کام ہے جو صرف بیس دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتا ،میڈیا ریگولیشن کیلئے جامع قانون لائیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ذمہ داری کی آڑمیں میڈیا پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی،پاکستان میں میڈیا کے مجموعی کردار کی تعریب کرنے چاہئیں،پچھلے کچھ سالوں میں میڈیا کی آزادی نے پاکستان کو بدل کر رکھ دیا ہے،میڈیا تنقید کا حق رکھتے ہیں تضحیک کا نہیں،آپ خبر دے سکتے ہیں، ہتک نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پیمرا زیادہ سے زیادہ ٹی وی چینلز کو دس لاکھ کا جرمانہ کرسکتا ہے، یہ چینلز کیلئے بہت معمولی رقم ہیں،باقی دنیا میں دس دس کروڑ جرمانے عائد کیے جاتے ہیں،رائے کااظہار کوئی بھی کرسکتا ہے، اس کیلئے آپ چینلز کو پابند نہیں کرسکتے تاہم پورٹنگ پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے، ان ددونوں کو الگ الگ تناظرمیں دیکھنا چاہیے، بد قسمتی سے اداروں سے ایڈیٹرز کا کردار ختم ہو گیاہے،

میڈیا کوکسی کی بھی تضحیک کی اجازت نہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر محرم کے دوران چلنے والے اشتہار پردوداہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے،چاہے ،فوج اور عدلیہ کی توہین پرپابندی حکومت نے نہیں لگائی آئین میں لکھا ہوا ہے،سیاستدانوں کی توہین پر بھی پابندی کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کی پیراڈی کیااجازت صرف پروگراموں میں ہیں، جو لوگوں کی تفریح کیلئے ہو ں،اشتہارات میں پیراڈی کی اجازت نہیں ، جس اشتہارے میں وزیراعظم کی پیراڈی کی جارہی ہے اس پر ایکشن لیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…