بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

’’ افسران بالا نے غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، اس پر ہلکا پھلکا تشدد کیا تھا ‘‘ ایس ایچ او کا اعتراف

datetime 31  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر بھاٹی کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں جاں بحق خاتون کے شوہر پر مبینہ تشدد کے معاملے کی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور نے انجام دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس پی اور ایس ایچ او نے مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ افسران کی ہدایت پر غلام مرتضیٰ کو حراست میں لیا گیا اور اس دوران اس پر معمولی تشدد کیا گیا۔تحقیقات کے نتیجے میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی کو قصور وار قرار دیا گیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں افسران غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانہ بھاٹی لے گئے، تاہم اس کے ہمراہ موجود دیگر رشتہ داروں سے کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔ بعد ازاں لڑکی کے والد کو فوری طور پر فون کیا گیا جبکہ غلام مرتضیٰ کے ساتھ آنے والے ایک رشتہ دار تنویر کو بھی تھانے میں روک لیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ غلام مرتضیٰ کو تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور اس دوران ایس ایچ او کے کمرے میں اس پر تشدد کیا جاتا رہا۔ کمرے میں نصب کیمروں کی ویڈیو سے بھی شواہد حاصل کیے گئے ہیں۔ انکوائری ٹیم نے شورکوٹ جا کر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی ریکارڈ کیا، جس میں اس نے بتایا کہ پولیس افسران اس پر بیوی اور بیٹی کے قتل کا الزام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں پولیس افسران نے واقعے کو غیر پیشہ ورانہ انداز میں ہینڈل کیا، جس پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کر دی گئی ہے، جو اسے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کریں گے۔واضح رہے کہ غلام مرتضیٰ پر مبینہ تشدد کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب ملزم پولیس افسران کا مؤقف ہے کہ ریسکیو اور دیگر اداروں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ خاتون کا ڈوبنا ممکن نہیں، اسی شبے کی بنیاد پر غلام مرتضیٰ کو تھانے منتقل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…