پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یواے ای میں جائیدادیں ،تحقیقات میں حیرت انگیز پیش رفت،895 میں سے 642 افراد نے ہاں کردی لیکن 72 جائیدادوں سے متعلق پاکستانیوں نے ایسی بات کہہ دی کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی تحقیقاتی ادارے نے متحدہ عرب امارات میں جائیدادیں رکھنے والے 25 سیاستدانوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ایف آئی اے نے بیرون ملک اثاثہ جات کیس سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای میں جائیدادیں رکھنے والے 25 سیاستدانوں کا سراغ لگا لیا ہے

تاہم سیاسی شخصیات کی جائیداد قانونی یا غیرقانونی ہونے کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ایف آئی اے کی تحقیقات میں ایمنسٹی اسکیم آڑے آگئی، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی معلومات خفیہ ہونے کے باعث ایف آئی اے کو مشکلات درپیش ہیں۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ایف بی آر ایمنسٹی اسکیم کی معلومات خفیہ رکھنے کا پابند ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیب کے 21 ملزمان بھی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں اور دو مفرور ملزمان بھی متحدہ عرب امارات میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 895 میں سے 642 افراد نے بیان حلفی جمع کرا دیے ہیں جب کہ 72 جائیدادوں سے متعلق پاکستانیوں نے ملکیت ہونے سے انکار کر دیا ہے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے دبئی میں جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا کہ اربوں ڈالر کا سرمایہ پاکستان سے کیسے اور کیوں منتقل ہوا؟۔متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کا کھوج لگانے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دبئی میں جائیدادیں رکھنے والے 895 پاکستانیوں کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے متحدہ عرب امارات میں جائیدادیں رکھنے والے 25 سیاستدانوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ایف آئی اے نے بیرون ملک اثاثہ جات کیس سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…