پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہاں! ہم اعتراف کرتے ہیں ،دبئی میں جائیدادیں، پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اعتراف کر لیا؟

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )ساڑھے 400 پاکستانیوں نے دبئی میں جائیدادیں خریدنے کا اعتراف کرلیا،دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پرقائم کمیٹی نے 893 مالکان کو نوٹس بھجوائے تھے جن میں سے 450 افراد نے جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کرلی ہے جبکہ 443افراد نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا،جائیدادوں کے مالکان کے نام ایف بی آرکو مزید تحقیقات کے لیے بجھوائے جائیں گے۔بقیہ افراد نے دو ہفتوں میں جواب نہ دیا تو وہ متعلقہ جائیدادوں کے مالک

تصور نہیں ہوں گے اور جائیدادوں کو بے نامی قرار دے کر بحق سرکار ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق دبئی میں تقریبا 7 ہزار پاکستانیوں نے جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ اربوں ڈالر کا سرمایہ پاکستان سے کیسے اور کیوں منتقل ہوا؟ اسی کا کھوج لگانے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا حکم دیا، اس کمیٹی کی نگران بھی سپریم کورٹ ہی ہے۔کمیٹی نے پہلے مرحلے میں 893 پاکستانیوں کو نوٹس بھیجے اور دبئی میں جائیداد کی نشاندہی کر کے پوچھا کہ کیا یہ آپ کی ملکیت ہے؟ اگر ہاں تو یہ جائیداد خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا ؟ کیا اس پیسے پر ٹیکس دیا؟ جائیداد خریدنے کے لیے پیسہ بیرون ملک کن ذرائع سے منتقل کیا؟،کمیٹی کے ذرائع نے نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ اب تک 450افراد نے تسلیم کرلیا ہے کہ دبئی میں جن جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کے مالک وہی ہیں۔باقی443 افراد کے جواب کا انتظار ہے، اگر دو ہفتوں میں ان لوگوں نے جواب نہ دیا تو وہ متعلقہ جائیدادوں کے مالک تصور نہیں ہوں گے اور بے نامی قرار دے کر بحق سرکار ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی، اس حوالے سے پاکستان ، دبئی کی حکومت سے رابطہ کرے گا اور ضرورت پڑی تو قانونی جنگ بھی لڑے گا۔ذرائع کے مطابق جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں ان میں سے اب تک کسی نے متعلقہ جائیداد کا مالک ہونے کی تردید نہیں کی ہے۔جو افراد جائز ذرائع آمدن، ٹیکس کی ادائیگی اور رقم کی قانونی ذرائع سے منتقلی ثابت نہ کرسکے ان کے خلاف کارروائی ایف بی آر کی ذمہ داری ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…