پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پرویز مشرف کو کیا خطرناک بیماری ہے جو سب سے چھپا رہے ہیں؟ وکیل نے چیف جسٹس کو بتایا تو انہوں نے فوری طور پر کیا حکم جاری کردیا؟

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے این آر او عملدرآمد کیس کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کو غداری کیس میں 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سابق صدر پرویزمشرف کے وکیل اختر شاہ نے ان کی وطن واپسی پر جواب جمع کرایا۔

اختر شاہ نے سپریم کورٹ سے کہا کہ گزارش ہے پرویز مشرف کے مرض کو صیغہ راز میں رکھیں۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس مرض کے مریض پاکستان میں بھی ہیں۔اختر شاہ نے دلائل دیئے کہ اگر مشرف کا آنا ضروری ہے تو انہیں ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جائے اور ان کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کو پاکستان آنے دیں، کوئی گرفتار نہیں کرے گا، وہ غداری کیس میں 342 کا بیان ریکارڈ کرائیں، ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا نہیں کہہ سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ دبئی علاج کیلئے کوئی اچھی جگہ نہیں، پاکستان میں بہت اچھے ڈاکٹر ہیں۔وکیل اختر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ مشرف حکومت پاکستان کی اجازت سے باہر گئے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دوبارہ کہہ رہے ہیں مشرف کو اجازت ہم نے نہیں دی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے، پرویز مشرف آئیں بیان ریکارڈ کرائیں جب علاج کے لیے باہر جانا ہو چلے جائیں۔یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے ٗ 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا ٗ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔

این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں ٗ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔این آر او کو اس کے اجرا کے تقریباً دو سال بعد 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا اور اس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…