ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

شہبازشریف کی گرفتاری، سیاسی انتقام کی ہم پہلے بھی مذمت کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں،حکومت نے بڑااعلان کردیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ماضی میں احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے سیاسی انتقامی کارروائیوں کو بطور ڈھال استعمال کیا جاتا رہا ہے، سیاسی انتقام کی ہم پہلے بھی مذمت کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، ملک کو بے دردی سے لوٹنے کے حوالے سے معاملات کو بھی سامنے آنا چاہئے، شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کہنا مناسب نہیں، نیب خود مختار ادارہ ہے،

اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے تو کیس چلنے دیں،اپوزیشن اگر تنقید کرتی ہے تو حکومتی بنچوں سے جواب بھی سننا چاہئے، عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رخ رکھنے ضروری ہیں،بھارت کے میز پر بیٹھنے سے کترانے کی وجہ داخلی سیاست کا آڑے آنا ہے، افغانستان میں رسہ کشی ایک دن یا سال نہیں سترہ سال پرانی کہانی ہے، آج دنیا پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہی ہے۔ پیر کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کہنا مناسب نہیں، نیب خود مختار ادارہ ہے، اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے تو کیس چلنے دیں۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کا الگ الگ نکتہ ء نظر ہے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ شائد سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے جبکہ اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ماضی میں احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے سیاسی انتقام کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو جس بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا ہے اس حوالے سے بھی نکتہ نظر سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کا موقف سننا چاہتے ہیں، اپوزیشن بھی ہمارا موقف سنے، اپوزیشن کو احتساب پر کیوں اعتراض ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اپوزیشن ارکان

اپنی لچھے دار تقاریر کرنے کے بعد کوئی بہانہ تراش کر واک آؤٹ کر جائیں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے اگر کوئی بات کی جاتی ہے تو حکومت کی طرف سے کوئی جواب بھی آنا چاہئے اور حکومتی نکتہ نظر بھی سننا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے کترا رہا ہے، داخلی سیاست اس کے آڑے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقرار کر کے پھر انکار کرنے سے دوسرے ممالک کے

وزرائے خارجہ کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں رسہ کشی ایک دن،ایک سال نہیں سترہ سال پرانی کہانی ہے، آج دنیا بھی پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہی ہے، افغان مسئلے کا حل طاقت نہیں ہے، زلمے خلیل زاد پہلی مرتبہ پاکستان نہیں آ رہے، ان کا نقطہ نظر سن کر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران ملک پر قرضوں کا انبار چڑھا دیا گیا ہے،

بدعنوانی انتہاء پر پہنچ گئی، تحریک انصاف نے پہلی مرتبہ اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قرضے 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، غریب غریب تر اور حکمران امیر تر ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو تبدیل کرنا ہے اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے قوانین بنائے جائیں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کا صرف ایک مقصد رہا ہے کہ یہاں ہم نے حکومت بنانی ہے، پیسہ بنانا ہے اور باہر لے جانا ہے۔ عوام کا انہیں کبھی خیال نہیں رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…