ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے اغوا میں ملوث اور گاڑی سے لڑکی کیساتھ نیم برہنہ برآمد ہونیوالے محمود الرشید کےبیٹے کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنادی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) پولیس اہلکاروں پر تشدد اور مبینہ اغوا کے مقدمے میں نامزد پنجاب کے سینیئر وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب کے سینئر وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما میاں محمودالرشید کے بیٹے میاں احسن کی پولیس اہلکاروں پر تشد کرنے کے الزام میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی ہے

اور عدالت نے صوبائی وزیر کے بیٹے کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔گزشتہ روز لاہور پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن نے ناکے پر مامور پولیس اہلکاروں کو اپنے گارڈز کی مدد سے ناصرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں کچھ دیر کے لئے اغوا کرکے ساتھ بھی لے گئے۔ واقعے کا مقدمہ ندیم نامی کانسٹیبل کی درخواست پر 5 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں درج کر لیا گیا تھا تاہم پولیس حکام کے بیانات میں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کو موردِالزام ٹھہرایا گیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔مقدمے میں نامزد ملزم میاں احسن نے گرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور سیشن عدالت سے رجوع کرلیا اور ان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی گئی. ایڈیشنل سیشن جج تنویر اعوان نے میاں حسن کی درخواست ضمانت پر سرسری سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف پیش کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار کو بے بنیاد الزام میں پولیس گرفتار کرسکتی ہے اس لیے ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے۔ایڈیشنل جج نے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کی عبوری ضمانت منظور کرلی اور ایک لاکھ ایک لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے تھانہ غالب مارکیٹ سے ملزم کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…