بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے اغوا میں ملوث اور گاڑی سے لڑکی کیساتھ نیم برہنہ برآمد ہونیوالے محمود الرشید کےبیٹے کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنادی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) پولیس اہلکاروں پر تشدد اور مبینہ اغوا کے مقدمے میں نامزد پنجاب کے سینیئر وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب کے سینئر وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما میاں محمودالرشید کے بیٹے میاں احسن کی پولیس اہلکاروں پر تشد کرنے کے الزام میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی ہے

اور عدالت نے صوبائی وزیر کے بیٹے کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔گزشتہ روز لاہور پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن نے ناکے پر مامور پولیس اہلکاروں کو اپنے گارڈز کی مدد سے ناصرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں کچھ دیر کے لئے اغوا کرکے ساتھ بھی لے گئے۔ واقعے کا مقدمہ ندیم نامی کانسٹیبل کی درخواست پر 5 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں درج کر لیا گیا تھا تاہم پولیس حکام کے بیانات میں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کو موردِالزام ٹھہرایا گیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔مقدمے میں نامزد ملزم میاں احسن نے گرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور سیشن عدالت سے رجوع کرلیا اور ان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی گئی. ایڈیشنل سیشن جج تنویر اعوان نے میاں حسن کی درخواست ضمانت پر سرسری سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف پیش کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار کو بے بنیاد الزام میں پولیس گرفتار کرسکتی ہے اس لیے ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے۔ایڈیشنل جج نے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں احسن کی عبوری ضمانت منظور کرلی اور ایک لاکھ ایک لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے تھانہ غالب مارکیٹ سے ملزم کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…