اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

کراچی میں بچوں کا اغوا، افواہیں پھیلانے میں کون سی جماعت کردار ادا کررہی ہے؟ ایڈیشنل آئی جی کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی) ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے شہر قائد میں بچوں کے اغوا سے متعلق حیرت انگیز انکشافات کرتے ہوئے کہا افواہیں پھیلانے میں ایک سیاسی جماعت اپنا کردار ادا کررہی ہے، شرپسند عناصر سوشل میڈیا سے افواہوں کو پھیلا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بچوں کے اغوا میں کتنے حقائق اور کتنی افواہیں ہیں ۔ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے حیرت انگیز انکشافات کئے اور کہاافواہیں پھیلانے میں ایک سیاسی جماعت اپنا کردار ادا کرہی ہے۔

افواہیں پھیلا کر خوف و ہراس کی فضا کی کوشش کی جارہی ہے، شرپسندعناصر سوشل میڈیا سے افواہوں کو پھیلا رہے ہیں۔کراچی پولیس چیف نے کہا کہ سہراب گوٹھ میں قتل ریحان کے قاتل کوگرفتار کرلیا ، قاتل کو پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے، ریحان کو قتل کرنے والا اسی کی گلی میں رہتا تھا، ملزم کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔ایڈیشنل آئی جی نے کہا نیوکراچی سے اغوا بچے نے بھی اغوا کار کے بارے میں بتایا، بچے کے مطابق اس نے اغوا کاروں کو اپنے والد کے ساتھ دیکھا تھا، بچہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان افراد کے نام بتانے سے قاصر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بچے کے اغوا کے بعدوالدین اورپولیس تلاش میں مصروف تھے، خاندان سے تعلق نہ رکھنے والے افراد ہنگامہ آرائی کر رہے تھے، ہنگامہ آرائی تاثر دینے کی کوشش تھی کہ اغواکی وارداتیں ہورہی ہیں۔امیرشیخ نے کہا سب جانتے ہیں احتجاج کرنے والوں کا تعلق کس جماعت سے تھا۔دوسری جانب ڈی آئی جی امین یوسف کا کہنا ہے کہ بچوں کے اغواسے متعلق کراچی میں147کیسز ہوئے ، 30 کے علاوہ تمام بچوں کو بازیاب کرالیا گیا ہے، یکم جنوری سے تاحال بچوں کے اغواکے158کیس رپورٹ ہوئے، صرف20 بچے ایسے جن کے کس حل ہونا باقی ہیں۔امین یوسف نے کہا این جی او کے تجزیے کے مطابق بچے گھریلو مسائل کے باعث لاپتہ ہوتے ہیں، سہراب گوٹھ سے بچے کی لاش ملی ،کیس پر پہلے سے کام جاری تھا، اغوااورقتل ذاتی وجوہ پرہوناالگ بات ہے، ریحان کے قتل کی وجوہات بھی جلد سامنے آجائیں گی۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…