پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

وفاقی حکومت اور خود مختار اداروں میں ایک لاکھ 71ہزار سے زائد خالی آسامیاں ،بھرتیاں کب شروع ہوں گی؟بڑی خوشخبری سنادی گئی

datetime 15  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی حکومت اور اس کے ذیلی خودمختار اداروں میں ایک لاکھ 71 ہزار 2 سو 37 آسامیاں خالی ہیں جو اداروں کے لیے منظور شدہ آسامیوں کی تعداد کے تقریباً 18فیصد پر مشتمل ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار برائے سال 17۔2016 کے مطابق سرکاری اداروں میں ملازمتوں کی کل تعداد تقریباً 11 لاکھ 37 ہزار8 سو 43 ہے جس میں سے 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 آسامیوں پر ملازمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 18 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے زیراہتمام اداروں میں کل 6 لاکھ 49 ہزار ایک سو 76 آسامیاں ہیں جس میں سے 5 لاکھ 70 ہزار 5 سو 53 آسامیوں پر ملازمین اور افسران دستیاب ہیں جبکہ 78 ہزار 6 سو 23 یعنی 12 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ مذکورہ تعداد میں گریڈ 17 کے افسران کی 9 ہزار 2 سو 35 آسامیاں جبکہ گریڈ 16 سے کم درجے کی 69 ہزار 3 سو 90 آسامیاں شامل ہیں۔اس طرح 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین وفاقی حکومت سے منسلک خود مختار یا نیم سرکاری ادراوں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ ان اداروں میں آسامیوں کی تعداد کل ملا کر 4 لاکھ 88 ہزار 6 سو 67 ہے اس طرح انہیں 19 فیصد کم ملازمین دستیاب ہیں۔اس حوالے سے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ بہت سے ملازمتیں ہر سال ملازمین کی ریٹائرمنٹ، اموات یا استعفوں کے ایک باقاعدہ نظام کے بعد خالی ہوئی ہیں لیکن زیادہ تعداد میں آسامیاں خالی ہونے کی وجہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھرتیوں پر پابندی ہونا ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری، نیم سرکاری اور دیگر کارپوریٹ اداروں میں ملازمین کی کل 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 آسامیوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 89 ہزار 7 سو 99 یعنی سب سے زیادہ ہے۔مذکور تعداد پنجاب کو حاصل 50 فیصد کوٹے سے بھی زائد ہے جبکہ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کے لیے ملازمتوں میں مختص 50 فیصد کوٹے کے مطابق ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 83 ہزار 3 سو 3 ہونی چاہیے۔

دوسری جانب خود مختار اور نیم خودمختار اداروں میں کام کرنے والے 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین میں سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 67 ہے جو مختص کوٹے سے زائد یعنی 55.81 فیصد ہے۔ وفاقی حکومت میں خیبر پختونخوا کا کوٹہ 11.5 فیصد ہے لیکن اس کے پاس 24.55 فیصد ملازمتیں ہیں، یعنی کوٹے کے مطابق صوبے کے ملازمین کی تعداد 1 لاکھ 11 ہزار ایک سو59 ہونی چاہیے لیکن یہ تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 4 سو 55 ہے، مختص کوٹے سے 87 ہزار 2 سو 96 زائد ملازمتیں خیبر پختونخوا کے پاس ہیں۔اس طرح بلوچستان کے لیے مختص 6 فیصد کوٹے کے حساب سے وفاقی حکومت میں اس کے ملازمین کی تعداد 57 ہزار 996 ہے

لیکن اس کے بجائے صوبے سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار 4 سو 56 ملازمین ہیں۔وفاقی اداروں میں سندھ کا کوٹہ 19 فیصد ہے جس کے مطابق صوبے کی آسامیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار 6 سو55 ہے لیکن صوبے کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار ایک سو 82 ہے۔ آئین کے آرٹیکل 27 کے مطابق وفاقی ملازمتوں میں صوبوں کے لیے مختص کوٹے کی مدت 40 سال تھی جو 2013 میں ختم ہوچکی لیکن مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں 20 سال کے اضافے کا بل پارلیمنٹ پیش کیا تھا جو منظور نہ ہوسکا۔توقع کی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جلد ہی پابندی اُٹھاکر بھرتیوں کا آغاز کرے گی ، واضح رہے کہ تحریک انصاف نے بڑی تعداد میں ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…